منصور اعجاز کی حفاظت فوج یا پولیس کرے: کمیشن

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدالت کے لیے مخالفانہ رویّے نے آج حکومت کو یہ دن دکھایا ہے۔

متنازع میمو سے متعلق تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ امریکی شہری منصور اعجاز کی حفاظت کے لیے فوج یا پولیس کا خصوصی دستہ تعینات کیا جائے۔ منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کو اُسی ای میل کے ذریعے قتل کی دھمکیاں ملیں جس ای میل کے ذریعے اُن کا رابطہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حیسن حقانی سے ہوتا تھا۔

’جواب وزارتِ دفاع کے تحت جانا چاہیئے تھا‘

اُنہوں نے کہا کہ منصور اعجاز سولہ جنوری کو کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے اور عدالتی کمیشن کی ہدایت پر اُن پر مخالف وکیل جرح بھی کرسکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق منصور اعجاز کے وکیل نے کمیشن کو درخواست کی کہ اُن کے موکل کی حفاظت کی ذمہ داری آئی ایس آئی کو دی جائے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھاکہ آئی ایس آئی سیکورٹی فراہم کرنے والا ادارہ نہیں ہے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے کمیشن کے سامنے درخواست دی کہ وہ ان کیمرہ پیش ہونا چاہتے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھے کہ اگر کوئی حساس معلومات ہیں تو ایک لفافے میں بند کرکے کمیشن کو بھجوایا جائے۔ عدالتی کمیشن کی اگلی سماعت سولہ جنوری کو ہوگی۔

اس سے قبل وفاقی سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل نے عدالتی کمیشن کو یہ یقین دہانی کروانے سے انکار کر دیا تھا کہ امریکی شہری منصور اعجاز کے خلاف پاکستان آمد پر مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے کمیشن کو بتایا کہ حکومت کسی بھی شہری کو کسی بھی شخص کے خلاف درخواست دائر کرنے سے نہیں روک سکتی البتہ اُنہوں نے کہا کہ اگر منصور اعجاز کے خلاف کوئی بھی درخواست کسی بھی تھانے میں جمع کروائی گئی ہوگی تو وہ اس کے بارے میں سپریم کورٹ کو مطلع کریں گے۔

میمو تنازع: فوج اور آئی ایس آئی کے بیانات کی حیثیت اب کیا رہ جاتی ہے

سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز کے خلاف درخواستیں جمع کروائی گئی ہیں تاہم اُن کے بقول ان معاملات کا جائزہ لینے کے لیے اُنہیں شعبہء قانون سے رابطہ کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ منصور اعجاز کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں راولپنڈی کے رہائشی محمد خالد نے درخواست جمع کرائی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ منصور اعجاز ملک دشمن ہیں اور اُنہوں نے پاکستانی اداروں کے خلاف اخبارات میں مضمون لکھے ہیں۔

متعقلہ تھانے کے انچارج حاکم خان کا کہنا ہے کہ چونکہ منصور اعجاز غیر ملکی ہیں اور اُن کے مضامین بھی غیر ملکی اخبارات میں چھپے ہیں اس لیے اُن کے خلاف پاکستانی قوانین کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے متنازع میمو سے متعلق سماعت شروع کی تو امریکی شہری منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ اُن کے موکل کے نہ صرف پاکستان آنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں بلکہ اُنہیں جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق اور سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کروائیں کہ منصور اعجاز کے کمیشن کے سامنے پیش ہونے میں نہ تو کوئی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی اور نہ ہی اُن کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا جائےگا۔

مذکورہ افسران نے عدالت کو یقین دہانی نہیں کروائی۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مؤکل کو ویزہ جاری کر دیا جاتا ہے تو وہ سولہ جنوری کے بعد کسی بھی وقت عدالت کے روبرو پیش ہو سکتے ہیں۔

اُنہوں نے عدالتی کمیشن سے درخواست کی کہ کمیشن یہ احکامات جاری کرے کہ منصور اعجاز کا پاسپورٹ برطانیہ میں واجد شمس الحسن کے حوالے نہ کیا جائے بلکہ کسی ذمہ دار افسر کے ذریعے ویزا لگوایا جائے۔

منصور اعجاز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل نے اپنے بلیک بیری فون کی پرائیوسی ویوور کرنے کی اجازت دے دی ہے اور اب حسین حقانی سے بھی کہا جائے کہ وہ ایسا کریں۔

تاہم حسین حقانی کا کہنا تھا کہ فی الوقت ایسا نہیں کر سکتے۔ اُن کے وکیل زاہد حسین بخاری کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل نے کچھ عرصہ قبل ہی استفی دیا ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت اُن پر کوئی قدغن نہ لگائی گئی ہو۔

حسین حقانی نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے زیر استعمال بلیک بیری امریکہ میں اُن کی رہائش گاہ میں کہیں پڑے ہوئے ہیں اور اُن کا پن کوڈ بھی نہیں ہے اور اگر وہ امریکہ جائیں تو وہاں سے یہ موبائل لاسکتے ہیں جس پر کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے کو ہدایات جاری کردی جائیں تو وہ یہ سامان پاکستان بھجوا سکتا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے اپنا ابتدائی بیان کمیشن کو لکھوایا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ نہ تو اُنہوں نے یہ متنازع میمو لکھا اور نہ ہی اُنہوں نے یہ میمو امریکی افواج کے سابق سربراہ مائیکل مولن کو پہنچایا ہے۔

حیسن حقانی کا کہنا تھا کہ اُنہیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ میمو کہاں سے آیا، کس نے لکھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔

دوسری جانب حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے اس متنازع میمو سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ہائی کورٹ کے ججز کو ہدایات جاری نہیں کی جا سکتیں لہذا عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

متنازع میمو میں درخواست گُزار میاں نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سازش کرنے والوں کے چہرے بے نقاب کرنے کے لیے یہ معاملہ عدالت میں لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’عدالت کے لیے مخالفانہ رویّے نے آج حکومت کو یہ دن دکھایا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کا یہ بیان کہ ’میں پارلیمنٹ کی بات مانوں گا‘ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ملک کی عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے۔

اسی بارے میں