مشرف کے اعلان پر سیاسی جماعتوں کا ردِعمل

مشرف ریلی سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption سابق صدر جنرل (ر) مشرف چترال سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں

پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے رواں ماہ کے آخر میں وطن واپسی کے اعلان پر زیادہ تر سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کراچی کےصدر سینیٹر فیصل رضا عابدی نے بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرف بے شک آئیں! انہیں عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہے اور قانون عدالت کے حکم پر عمل کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے حکم کے تحت وہ مفرور ہیں کیونکہ جب تک وہ ایوانِ صدر میں تھے انہیں استثناء حاصل تھا مگر اب نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ گرفتار ہوئے تو انہیں جیل میں اے کلاس دی جائے گی مگر اگر عدالت ان کی ضمانت منظور کرلیتی ہے تو پھر قانون بھی کچھ نہیں کرسکتا۔

صدر مشرف کے جلسے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مشرف صاحب کے لیے یہ اچھی شروعات ہے کہ اس وقت جب ان کے پاس کوئی خاص چہرے بھی نہیں ہیں انہوں نے دس پندرہ ہزار افراد کو جمع کر لیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے کہا کہ اگر پرویز مشرف واپس آتے ہیں تو انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف پر بےنظیر بھٹو ، نواب اکبر بگٹی کے قتل کے علاوہ آئین توڑنے کا الزام بھی ہے اس لیے ان کے لیے ملک میں واپس آنا مشکل ہے۔

زاہد خان نے کہا کہ اچھا ہو اگر ان کے خلاف مقدمات چلیں اور فیصلہ ہوجائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے جیسا کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد نے کیا۔

پرویز مشرف کے چترال سے انتخاب لڑنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پرویزمشرف کا ذہنی توازن درست نہیں ہے کیونکہ چترال کے لوگ اتنے بے وقوف نہیں کہ وہ انہیں ووٹ دیں۔ ’نہ ان کا وہاں سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انہوں نے علاقے کے لوگوں کے لیے کچھ کیا ہے۔‘

زاہد خان کے مطابق انتخابات لڑنا تو بعد کی بات ہے پہلے تو مقدمات کا سامنا کریں اور اگر ان کو سزا ہوگئی تو ویسے بھی وہ نااہل ہوجائیں گے۔‘

دوسری جانب پرویزمشرف کی وطن واپسی پر متحدہ قومی موومنٹ کے رضاہارون کا کہنا ہے کہ ہر پاکستانی تو ملک میں آنے اور سیاست کرنے کا حق ہے اور یہ خوش آئند ہے کہ نئے لوگ اور سیاسی جماعتیں آ رہی ہیں۔

اتوار کو ہونے والے جلسے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عوام تو جلسے میں موجود تھے اور انہیں سن بھی رہے تھے اس لحاظ سے وہ وہ ایک اچھا جلسہ کہلائے گا، مگر کسی بھی جلسے کی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ انتخابی جیت میں تبدیل ہوجائے۔

پرویز مشرف کی گرفتاری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک قبل از وقت بات ہے مگر اگر کسی کو بھی قانون کے تحت گرفتار کیا جائے تو الگ بات ہے مگر اگر اس سے پرویز مشرف کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے تو پھر مخالفت کی جائے گی۔

اس بارے میں مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ مشرف صاحب واپس آئیں تاکہ لوگ ان سے جواب طلب کرسکیں۔

کراچی میں گزشتہ روز آل پاکستان مسلم لیگ کے ہونے والے جلسے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ عبرت کا مقام ہے کہ سابق صدر اور سپہ سالار ِ پاکستان ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کرتا ہے اور صرف چند ہزار لوگ شریک ہوتے ہیں کیونکہ اس سے بڑا جلسہ تو ایک سیاسی کارکن کر لیتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ سابق فوجی جرنیلوں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے جو مختلف حیثیتوں میں مداخلت کرتے رہتے ہیں۔

اس سوال پر کہ اگر عدات پرویز مشرف کی ضمانت منظور لیتی ہے تو کیا پنجاب حکومت انہیں سابق صدر کا پروٹوکول دے گی ان کا کہنا تھا کہ ہر کام قاعدے اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ ’مگر دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ قانونی صدر تھے بھی یا نہیں کیونکہ عبدالحمید ڈوگر پاکستان کے چیف جسٹس رہے ہیں مگر انہیں کوئی تسلیم نہیں کرتا ہے اور نہ ہی ان کی تصویر سپریم کورٹ میں آویزاں ہے۔‘

اسی بارے میں