گورنر سلمان تاثیر کا قاتل ہیرو کیسے بنا

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption سلمان تاثیر کو گزشتہ برس جنوری میں قتل کیا گيا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کا قتل جنوری دو ہزار گيارہ میں ہوا تھا۔انہیں کے محافظ ممتاز قادری نے ان کا قتل کیا تھا جنہیں بعد میں عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔

ممتاز قادری اس سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں اور بعض لوگوں کو یہ بھی یقین ہے کہ وہ دوبارہ اپنی ملازمت پر بحال ہوجائیں گے۔

چار جنوری کو اسلام آباد میں ایک ریستوراں میں سلمان تاثیر جب اپنے ایک دوست کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے تو ممتاز قاردی ان پر اپنے نشانے کے زاویے کے متعلق سوچ رہے تھے۔

اس روز اس سے پہلے بھی وہ تین بار ان پر فیصلہ کن شاٹ کے لیے کوشش کر چکے تھے لیکن نا کام رہے تھے۔ جب سلمان تاثیر کھانا کھا کر اپنی کار کی طرف بڑھے تو قادری کو اس کے لیے صحیح موقع ملا۔

ممتاز قادری نے ان پر ستائس بار فائر کیا اور اس میں انہیں محض تین سے چار سیکنڈ لگے۔ اسکے بعد قادری نے اپنے ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے سلمان تاثیر کے دوسرے گارڈز سے کہا کہ ان پر گولی چلانے کے بجائے وہ انہیں گرفتار کر لیں اور انہیں گرفتار کر لیا گيا۔

ممتاز قادری کے خلاف مقدمہ چلا اور عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی ہے۔ لیکن اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو اس طرح کے کیسز میں ایسی سزاؤں پر کبھی عمل نہیں ہوا ہے۔

سلمان تاثیر ایک بڑی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی محنت سے دولت کمائی تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے لندن میں اکاؤنٹینسی کی تربیت حاصل کی تھی۔

جنرل ضیاء کے زمانے میں وہ سیاست میں آئے اور جب جمہوریت کے لیے اواز اٹھائی تو انہیں قید تنہائی میں رکھا گيا۔

طنز و مزاح ان کا خاصہ تھا، ایک بار امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلٹن گورنر ہاؤس میں ان سے ملنے گئیں۔ گورنر ہاؤس سفید رنگ کی ایک پرانی اور بڑی شاندار عمارت ہے۔

ملاقات کے وقت سلمان نے محترمہ کلنٹن سے کہا ’میں آپ کو بتانا چاہونگا کہ جب میں لندن میں تھا تو گروسوینئر سکوائر پر امریکی سفارت خانے پر پتھر پھینکا کرتا تھا‘۔

جس کے جواب میں محترمہ کلٹن نے کہا ’فکر مت کرو میں بھی وہی کرتی تھی‘۔

رقصت کے وقت جب دونوں باہر آئے تو لان میں کھڑے ہوتے وقت سلمان تاثیر نے کہا کہ ’معاف کیجئیے گا محترمہ کلٹن، جو ہمارے معزز مہمان آتے ہیں ہم ان سے گورنر ہاؤس میں پودا لگوانے کی رسم ادا کرواتے ہیں۔ یہاں تک رانی نے بھی پودا لگایا تھا‘۔

محترمہ کلنٹن نے کہا کہ’ کیا اب یہ روایت ختم ہوگئی ہے؟‘ اس پر سلمان تاثیر نے جوابا کہا ’ایدی امین نے ایک پودا لگایا تھا لیکن وہ مالی کو ہی کھا گئے تھے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قاتل ممتاز قادری کو جج تک پسند کرتے ہیں

کہتے ہیں اس جواب کے بعد محترمہ کلنٹن لاہور ایئر پورٹ تک ہنستے ہوئی گئی تھیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر ان کے محافظ نے انہیں کیوں مار دیا۔

سلمان تاثیر پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے لڑتے رہتے تھے اور ناموس رسالت جیسے قانون کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس کے تحت ایک عیسائی خاتون کوگرفتار کیا گيا تھا۔

جب یہ کیس سامنے آیا تو سلمان نے اس خاتون کی معافی کے لیے کوشش کی اور بعض صحافیوں کے ساتھ اس خاتون سے ملاقات کے لیے اس کے گھر گئے۔

سلمان تاثیر کا خیال تھا کہ ناموس رسالت کا قانون متنازعہ ہے اور اس قانون کا بے جا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جب انہوں نے یہ باتیں کہیں تو خود ان پر ناموس رسالت کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا گیا اور اسی وجہ سے ان کے محافظ نے انہیں قتل کر دیا۔

پاکستان میں اس کیس سے متعلق ایک ہفتے تک لوگوں سے بات کرنے کے بعد میں یہ یقین کرکے چلا آیا کہ لوگوں کو سلمان تاثیر سے زیادہ ان کے قاتل سے ہمدردی ہے۔

پاکستان میں یہ مسئلہ اتنا حساس ہے کو کوئی بھی سینیئر وکیل قادری کے خلاف کیس لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوا اور بالآخر لاہور کے ایک وکیل نے یہ کیس لیا جو دو گارڈز کے تحفظ کے ساتھ اپنے گھر میں رہتے ہیں۔

انہوں نے مجھ سے کہا ’کوئي بھی وکیل ایسا نہیں کریگا، میرے نام کی تجویز پیش کی گئی تھی اور جب میں نے اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا کہ ایسا مت کرو، کیونکہ اگر مذہبی لوگ یہاں کسی سے ناراض ہوگئے تو پھر اسے زندہ نہیں چھوڑتے ہیں‘۔

’لیکن قادری کی موت کی سزا کو برقرار رکھنا چاہیے، اگر اسے عمر قید میں تبدیل کیا گيا تو وہ رہا ہوجائیگا اور پھر وہ پارلیمنٹ کا رکن یا پھر وزیر بھی بن سکتا ہے کیونکہ وہ نا صرف یہ کہ عام لوگوں کا بلکہ بعض سابق اور موجودہ ججوں جیسے پڑھے لکھے لوگوں کے لیے بھی ہیرو ہے۔ اعلٰی عہدوں پر فائز لوگ بھی اسے ہیرو کی طرح پیش کر رہے ہیں‘۔

میں ممتاز قادری کے بھائی سے راولپنڈے میں ان کے مکان پر ملنے گيا۔ یہ ایک غریب خاندان ہے ۔

قادری کے بڑے بھائی نے کہا ’ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ میرے بھائی نے کیا کام انجام دیا ہے، جو لوگ پہلے ہم سے ہاتھ ملانے سے کتراتے تھے وہ اب ہمیں بوسہ دینے اور لینے آتے ہیں۔ ہم بس خدا کے شکر گزار ہیں جس نے پیغبر کے عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے ہمارے خاندان کو منتخب کیا۔‘

اسی بارے میں