خیبر ایجنسی: بم دھماکے میں تیس ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسافر وین بم دھماکے میں مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ قریب میں کھڑی دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ایک مسافر وین میں بم دھماکے کے نتیجے میں چھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت تیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ بم دھماکہ منگل کی صُبح گیارہ بجے کے قریب تحصیل جمرود میں ایک پُرانے پیٹرول پمپ کے قریب تیرہ بس سٹینڈ پر کھڑی مسافر وین میں ہوا ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان نے اس واقعے سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کے اس بم دھماکے سے ان کی تنظیم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

جمرود کے تحصیل دار شکیل احمد کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں تیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں خاصہ دار فورس کے چھ اہلکاروں بھی شامل ہیں۔

اہلکار کے مطابق دھماکے میں کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ جس بس سٹینڈ میں یہ دھماکہ ہوا ہے یہ ذخہ خیل قبیلے کا سٹینڈ ہے اور ذخہ خیل قبائل تیرہ کے لیے اسی بس سٹینڈ سے سفر کرتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق ذخہ خیل قبائل نے کچھ عرصہ پہلے شدت پسندوں کے خلاف ایک امن کیمٹی اور لشکر بنایا ہے جو تیرہ کے علاقے میں شدت پسند تنظمیوں کے خلاف لڑنے میں مصروف ہے۔

جمرود کے ضلعی ہسپتال میں ایجنسی سرجن ڈاکٹر محمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے سرکاری اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایجنسی سرجن ڈاکٹر کے مطابق تمام لاشیں بُری طرح جھلس گئی ہیں اور ان کی شناخت بُہت مُشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں جو ادوایات اور دوسرے طبی سامان کی کمی تھی وہ ہسپتال کے سامنے نجی دکانداروں نے انسانی ہمدردی کے تحت پوری کی ہیں اور شدید زخمیوں کو حیات آباد منتقل کردیاگیا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں اسے پہلے خودکش حملوں سمیت شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت سینکڑوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

گزشتہ سال اگست میں جمرود کی ایک مسجد پر نماز جمعہ کے دوران ہونے والے بم حملے میں اکیاون افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں