کراچی سٹاک ایکسچینج میں مندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی رہی اور کے ایس سی ہینڈریڈ انڈیکس گیارہ ہزار کی نفسیاتی حد سے بھی نیچے گرگیا۔

کاروبار کاآغاز گیارہ ہزار چالیس پوائنٹس پر ہوا جس میں آغاز ہی سے کمی کا رجحان رہا اور ایک موقع پر انڈیکس تقریباًَ تین سو پوائنٹس تک گرگیا۔ تاہم این آر او عمل درآمد کیس میں عدالتِ عظمیٰ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس میں بہتری آئی اور تیل کے سیکٹرز میں خریداری کی وجہ سے مارکیٹ میں بہتری آئی۔ دن کے اختتام تک انڈیکس دس ہزار نو سو تینتیس پر بند ہوا۔

سٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈھی نے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی کام کی بات نہیں ہو رہی ہے۔

’نہ کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے۔ کوئی زیرگردش قرضوں کے مسائل کو حل کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہے اور نہ ہی کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ روپیہ ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہورہا ہے۔ اسی وجہ سے عوام اپنے روزگار کے لیے پریشان ہیں اور اوپر سے یہ دو ادارے آمنے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں۔‘

کراچی میں ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈھی کےمطابق سٹاک مارکیٹ میں منگل کو ہونے والی شدید مندی اور پھر بہتری کی وجہ سپریم کورٹ سے آنے والی خبریں ہیں کیونکہ ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ توہین عدالت میں سزا دے دی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں تو حسرت ہے کہ ٹی وی چینلز سے کبھی کوئی اچھی خبر بھی سننے کو ملے۔ ’یہ لوگ کسی کاروبار کرنے والے سے جاکر یہ نہیں پوچھتے کہ وہ مہینے کے آخر میں تنخواہیں کہاں سے دے رہا ہے یا لوگوں کو نکال رہا ہے۔‘

انہوں نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی قدر کے بارے میں کہا کہ جب بھی صورتِ حال خراب ہوگی تو روپیہ کمزور ہوگا اور ان کا روپیے پر بھروسہ ختم ہوجاتا ہے۔

عقیل کریم ڈھیڈھی نے کہا کہ اس وقت اصل میں اعتماد کا فقدان ہے۔ ’مارکیٹ اچھی ہے اس کی ویلیو ہے لیکن ہمارے بڑے جب بلاوجہ صبح سے شام تک ایک دوسرے کے گریبان پکڑ کر بیٹھے رہیں گے تو پھر ہم کیا کریں گے۔‘

اسی بارے میں