اسلام آباد: اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او عملدرامد کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایوانِ صدر اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے سینئیر رہنماؤں کا اجلاس منقعد ہوا جس میں ملک کی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات بارہ جنوری کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

منگل کی رات ایوان صدر میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت پاکستان پپلزپارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کی جس میں پپلزپارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ملک کی موجود سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

صدارتی ترجمان کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے ملک میں تازہ ترین سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر جلد قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات بارہ جنوری کو شام چار بجے بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ اجلاس کے دوران روحانی پیشوا پیر پگارا کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

عدالتِ عظمٰی کا این آر او عملدرامد کیس پر فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’عدالت دو سال سے این آر او پر عمل درآمد نہ ہونے پرصبرو تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے جبکہ آئین میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا‘

اس سے قبل منگل کو سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت پر فیصلہ سُناتے ہوئے وزیر اعظم کی نااہلی سمیت چھ ممکنہ حل بتائے اور اس معاملے کو چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے کہا کہ وہ اس ضمن میں لارجر بینچ تشکیل دیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور آئین کی پاسداری نہ کرکے اپنے حلف سے روگردانی کی ہے اور بادی النظر میں وہ ایماندار نہیں رہے اور اگر کوئی بھی شخص ایماندار اور امین نہ ہو تو وہ پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے آئین کی پاسداری پر اپنی سیاسی وابستگی کو ترجیح دی۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر پاکستان اور وزیر قانون بھی بظاہر اپنے حلف سے روگردانی کے مرتکب ہوئے ہیں اور اُنہیں بھی ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کے ارٹیکل 189 کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اُن کے پاس ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم، وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے کیونکہ اُنہوں نے جان بوجھ کر عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر اُنہیں اس الزام کے تحت سزا ہوجاتی ہے تو آئین پاکستان کے تحت اُن کے رکن پارلیمان بننے پر پانچ سال کی پابندی لگ سکتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں صدر آصف علی زرداری کا ایک نجی ٹی کو دیے گئے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ این آر او سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے کچھ حصوں پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے یہ امکان بھی سامنے رکھا ہے کہ آئین کے ارٹیکل ایک سو ستاسی کے تحت سپریم کورٹ ایک کمیشن تشکیل دے جو این آر او سے متعلق عدالتی فصیلے پر عمل درآمد کروائے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے عدنان خواجہ اور احمد ریاض کے بارے میں کہا ہے کہ اُن کے خلاف اب مذید انکوائری کی گُنجائش نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا عدالت دو سال سے این آر او پر عمل درآمد نہ ہونے پرصبرو تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے جبکہ آئین میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا۔

عدلیہ نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا اور بادی النظر میں اُنہوں نے مس کنڈکٹ کیا ہے اور کیوں نہ اُن کے خلاف اس کی کارروائی کرتے ہوئے اُنہیں اُن کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

عدالت نے اپنی تجویز میں کہا ہے کہ اگرچہ سماعت کے دوران ابھی تک کسی نے آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت حاصل استثنی کا معاملہ نہیں اُٹھایا ہے تاہم اگر عدالت کی تجاویز کے نتیجے میں کوئی متاثر ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اُس کا موقف سُنا جائے تو اُسے موقع دیا جانا چاہیے۔

دریں اثناء وزیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این آر او ایک آرڈیننس تھا جس سے سیاسی طور پر بنائے گئے مقدمات سے متاثرہ افراد مستفید ہوئے۔ اُنہوں نے کہا کہ نیب اُن افراد کو بھی طلب کرے جنہوں نے نیب آرڈیننس کا مسودہ تیار کیا اور پھر اس کی منظوری بھی دی۔

اسی بارے میں