کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بری فوج کی جانب سے اپنے خلاف تردیدی بیان کے بعد بدھ کی شام اسلام آباد میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔

کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ایوان وزیر اعظم سے بدھ کی صبح انہیں ہدایت ملی کہ آج شام کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کی تیاری کی جائے۔

روایات کے مطابق اجلاس کی تیاریاں شروع کر دی گئیں اور اس ضمن میں باقی شرکاء کو مدعو کرنے کے لیے سرکاری حکم نامہ بھی تیار کر لیا گیا۔

عین اس موقع پر جب کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری کے دستخطوں سے یہ ہدایت نامہ شرکاء کو بھیجا جانے والا تھا پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے وہ بیان جاری کر دیا گیا جس میں وزیر اعظم گیلانی پر تنقید کی گئی تھی۔

کابینہ ڈویژن کے اہلکار کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے اس بیان کے سامنے آنے کے فوراً بعد ایوان وزیر اعظم کی جانب سے انہیں ہدایت ملی کہ دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کی کارروائی روک دی جائے۔

ایک سینیئر فوجی افسر نے بھی کابینہ کے دفاعی اجلاس کے منعقد ہونے اور پھر نہ ہونے کی سرگرمی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فوجی افسران کے علم میں یہ بات لائی جا چکی تھی کہ وزیراعظم اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کی تحقیقاتی رپورٹ پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔

فوجی ذرائع نے اس اجلاس کے منعقد نہ کیے جانے کے بارے میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان رابطے کا واحد باضابطہ فورم ہے۔ ماضی میں بھی ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت بعض متنازع معاملات پر اس فورم پر گفتگو کر چکی ہے۔

کابینہ ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم گیلانی دفاعی کمیٹی کے اس اجلاس کو فوج کے ساتھ پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ پچھلے ماہ بھی وزیراعظم گیلانی اور فوجی سربراہ کے درمیان ایک ملاقات نے حکومت اور فوج کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسی بارے میں