وزیراعظم نے سیکرٹری دفاع کو برطرف کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی نومبر میں اس عہدے پر فائز ہوئے تھے

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق سیکرٹری دفاع کو غیر قانونی سرگرمیوں اور قواعد کی خلاف ورزی پر ہٹایا گیا ہے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے وہ ریاستی اداروں کے درمیان غلط فہمیاںپیدا کرنے کا سبب بنے۔

وزیراعظم نے کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو سیکرٹری دفاع کا اضافی چارج دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ وزارتِ دفاع نے متنازع میمو کیس میں سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان فوج اور آئی ایس آئی پر انتظامی کنٹرول ہے لیکن آپریشنل کنٹرول نہیں ہے۔

اس پر وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور فوج سمیت تمام ادارے پارلیمان کو جوابدہ ہیں اور کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ پارلیمان کو جوابدہ نہیں ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے اور یہ بات کسی طور پر قبول نہیں۔

انہوں نے کہا ’جب قائد اعظم نے ملک بنایا اور آزادی دلوائی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم یہاں آزادی سے رہ سکیں۔ لیکن اگر یہاں بھی ہم نے محکوم ہی رہنا ہے تو اس حکومت، پارلیمان اور نظام کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر آپ اس ایوان کے رکن ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ آزاد ہیں‘۔

اسی بارے میں