کشیدگی کے بعد پہلی ملاقات سنیچر کو متوقع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس سنیچر کے روز طلب کر لیا ہے۔

کابینہ ڈویژن کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس اہم فورم کا اجلاس گزشتہ دنوں بدھ کو طلب کرنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے وزیراعظم کے بارے میں تنقیدی بیان جاری ہونے کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت چند روز جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد سنیچر کے روز ایک میز پر اکٹھی ہو گی۔ فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ہو گی جو سنیچر کے روز طلب کیا گیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کی زیر سربراہی کابینہ کی دفاعی کمیٹی میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیرِ دفاع، وزیرِ خزانہ، وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خارجہ شامل ہیں۔ یہ ادارہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان مشاورت کا واحد باضابطہ فورم ہے۔

مبصرین فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں اس اجلاس کو بہت اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ کشیدگی کے عالم میں گزشتہ چند ہفتے کے دوران یہ پہلا موقع ہو گا کہ ملکی سیاسی اور فوجی قیادت ایک میز کے گرد جمع ہو گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے لیے ایجنڈے میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے پس منظر میں کیے گئے اقدامات پر امریکہ اور نیٹو افواج کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل پر غور کیا جائے گا۔

کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اس اجلاس سے پہلے بھی پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے سیاسی حکومت کے ساتھ کشیدگی کے دوران بعض پیغامات بالواسطہ اور بلا واسطہ وزیراعظم گیلانی تک پہنچائے ہیں جن کے ذریعے حکومت پر واضح کیا گیا ہے کہ فوج اقتدار پر قبضے کا ارادہ نہیں رکھتی لیکن حکومتی اکابرین کو بھی فوج کے بارے میں سیاسی نوعیت کے حملوں سے گریز کرنا چاہئے۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے بدھ کی رات جاری ہونے والے سخت بیان سے پہلے اور فوراً بعد فوج اور حکومت کے درمیان مختلف باضابطہ اور غیر روایتی چینلز کے ذریعے رابطے کیے گئے جن کے ذریعے حکومت کو باور کروایا گیا کہ میڈیا میں پیدا ہونے والے ہیجان کو حقیقی سمجھ کر حکومت پریشانی کے عالم میں غیر منطقی اقدامات کرنے سے باز رہے۔

فوجی حکام کا خیال ہے کہ حکومت نے سیکرٹری دفاع کے عہدے پر وزیراعظم کی سب سے قابل بھروسہ افسر نرگس سیٹھی کو اس لیے تعینات کیا ہے کہ حکومت بری فوج یا انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ کو مبینہ غیر قانونی اقدامات پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جنرل اشفاق کیانی نے حکومت کے ساتھ کشیدگی کے پس منظر میں جمعرات کے روز فوجی صدر دفتر میں تعینات پرنسپل افسران کے ساتھ غیر رسمی مشاورت کی۔ اس مشاورت کا سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران فارمیشن اور کور کمانڈرز کے ساتھ اجلاس کی بھی توقع ہے۔

اسی بارے میں