اورکزئي:جھڑپ میں سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فرنیٹیئر کور نے علاقے میں آپریشن تیز کر دیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے جبکہ جوابی کاروائی میں آٹھ عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پشاور میں فرنٹیر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مسلح عسکریت پسندوں نے اپر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام غلجو کے قریبی علاقے شاہ ڈلہ میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کاروائی کی اور اس دوران آٹھ کے قریب عسکریت پسند مارے گئے۔ تاہم مقامی طورپر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ پیر کو اورکزئی ایجنسی میں ایک نالے سے سکیورٹی فورسز کے دس اہلکاروں کی لاشیں ملی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف اپنی کاروائیاں تیز کر دی ہیں۔

بدھ کو بھی اپر اورکزئی ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی تھیں جس میں حکام کے مطابق کئی شدت پسند مارے گئے تھے۔

کوئلے کی کان میں دھماکہ

ادھر اورکزئی ایجنسی میں ہی کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھر جانے سے چار مزدور ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی کے ایک پولیٹکل اہلکار کے مطابق یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شپ لوئر اورکزئی کے صدر مقام کلایہ سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور برامت خیل قبیلے کے علاقے ڈولی میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ رات کے وقت مزدور کوئلے کے کان میں کام کررہے تھے کے اس دوران وہاں زیریلی گیس پھیل گئي لیکن مزدوروں کو پتہ نہیں چل سکا جس سے چار کان کن موقع پر ہی پر ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

مرنے والے مزدوروں کا تعلق ضلع شانگلہ سے بتایا جاتا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں ان کی آْبائی علاقوں میں منتقل کردی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصہ سے کوئیلے کے کانوں میں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس میں اب تک درجنوں کان کن ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حفاظتی تدابیر نہ ہونے کے باعث کوئلے کے کانوں میں ہر ماہ یا دو ماہ میں کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور پیش آتا ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئیلے مالکان کی طرف سے بھی مزدوروں کو کوئی خاص مراعات حاصل نہیں۔

اسی بارے میں