صبغت اللہ راشدی نئے پیر پگارا منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر مردان شاہ کے چار بیٹوں میں سب سے بڑے ہیں

پاکستان کے سینئر سیاستدان اور حر جماعت کے روحانی پیشوا شاہد مردان شاہ کے بڑے فرزند پیر صبغت اللہ شاہ راشدی عرف راجہ سائیں کو نیا پیر پگارا منتخب کیا گیا ہے۔

وہ حر جماعت کے آٹھویں روحانی پیشوا بن گئے ہیں۔

حر جماعت کے پندرہ خلیفوں کے رات بھر جاری رہنے والے اجلاس میں پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کا انتخاب کیا گیا۔ حر جماعت واحد روحانی جماعت ہے جس میں پیر منتخب کرنے کا حق مریدوں کو دیا گیا ہے۔

صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع پیر پگارا کے آبائی گاؤں پیر جو گوٹھ میں روضی دھنی درگاہ میں پیر صبغت اللہ شاہ کی دستاربندی کی گئی، جس میں غوثیہ جماعت کے روحانی پیشوا مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے فرزند عبدالقادر شاہ جیلانی بھی شریک تھے۔

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی انیس سو نوے سے لے کر انیس سو ستانوے تک تین بار رکن سندھ اسمبلی رہے ہیں، وہ جام صادق دور حکومت میں صوبائی وزیر آبپاشی کے منصب پر فائز تھے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر جو گوٹھ میں ہی جمعرات کو انتقال کر جانے والے پیر مردان شاہ کی تدفین بھی ہو رہی ہے۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں ان کے مرید گاؤں پہنچ چکے ہیں جنہوں نے سر پر سفید رنگ کی ٹوپیاں اور پگڑیاں پہن رکھی ہیں۔

پیر مردان شاہ کی نمازہ جنازہ میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، مسلم لیگ کے رہنماؤں سید غوث علی شاہ، الہٰی بخش سومرو، وفاقی اور صوبائی وزرا اور مختلف گدی نشینوں نے شرکت کی۔

جنازہ گاہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، پہلے حصے میں راشدی خاندان، سیاسی شخصیات اور گدی نشین موجود تھے جبکہ دوسرے حصے میں مرید اور عقیدت مند موجود تھے۔

مریدوں کی بڑی تعداد اپنے روحانی پیشوا کا آخری دیدار نہیں کر سکی، نمازے جنازہ کے بعد مریدوں نے آگ بڑھ کر دیدار کرنے کی کوشش کی مگر رضاکار لاٹھیوں اور سیٹیوں کی مدد سے انہیں دور کرتے رہے۔ یہ مرید سردی میں رات سے مزار کے احاطے میں موجود تھی۔

راشدی خاندان کی روایت کے مطابق پہلے نئے پگارا کا انتخاب ہوتا ہے جس کے بعد دنیا سے کوچ کر جانے والے پیر کی تدفین کی جاتی ہے۔

پیر پگارا سید مردان شاہ کی میت جمعرات کی صبح ہوائی جہاز کے ذریعے لندن سے کراچی لائی گئی جہاں سے اسے جیکب آباد ایئرپورٹ پہنچایا گیا اور وہاں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر آبائی گاؤں پیر جو گوٹھ منتقل کیا گیا۔

پیر پگارا پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے منگل کو لندن میں انتقال کرگئے تھے۔سندھ حکومت نے جمعرات کو ان کی تدفین کے موقع پر عام تعطیل کا عام اعلان کر رکھا ہے اور سانگھڑ، عمرکوٹ سمیت کئی شہر دوسرے روز بھی سوگ میں بند رہے۔

اسی بارے میں