نیٹو سامان، سلسلہ رکا نہیں کم ہوا ہے

نیٹو سامان
Image caption پابندی کے بعد سلسلہ رکا نہیں تاہم اب بڑے پیمانے پر کنٹینر نہیں آرہے

پاکستان کی بندرگاہوں پر نیٹو افواج کے ساز و سامان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں ہے تاہم اب بڑے پیمانے پر کنٹینر نہیں آرہے۔

گزشتہ سال پچیس دسمبر کو مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر واقع سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کی بمباری میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ جس کے بعد پاکستان حکومت نے بطور احتجاج نیٹو کی فراہمی معطل کر دی ہے۔

کراچی کی دونوں بندرگاہوں سے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف نیٹو افواج کو تیل اور دیگر ساز و سامان کی فراہمی کی جاتی ہے۔

کسٹم انٹیلیجنس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو کا کوئی خصوصی بحری جہاز پاکستان کی بندرگاہ پر نہیں آتا، عام مال بردار جہاز میں نیٹو کے کنٹینر بھی شامل ہوتے ہیں اور ان کی شناخت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی ایجنٹ دعویٰ نہ کرے۔

کسٹم حکام کے مطابق پہلے بڑے پیمانے پر سامان آتا تھا مگر اب اس میں کمی واقع ہوئی ہے مگر آمد کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔

گڈز کیریئر اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نور خان نیازی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک سامنے آیا جس کے باعث کئی کنیٹینر پھنس گئے، جو افغانستان میں گاڑیاں کھڑی تھیں وہ واپس آنا شروع ہوگئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سامان سے لدے ہوئے کنٹینر کوئٹہ، چمن، جیکب آباد سمیت دیگر شہروں میں پیٹرول پمپوں اور ہوٹلوں پر کھڑے ہیں، یہ صورتحال کب تک جاری رہیگی اس کا کوئی علم نہیں ہے۔

’ہماری گاڑیاں سامان کے ساتھ پھنس گئی ہیں، اب اس کی ادائیگی کون کرے گا اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا کانٹریکٹر کہہ رہے ہیں کہ وہ ادائیگی نہیں کریں گے جبکہ حکومت پاکستان کہتی ہے کہ یہ مال ہی ان کا نہیں ہے۔ نقصان ٹرانسپورٹروں کا ہو رہا ہے۔‘

ایجنٹوں کے ساتھ یہ طے ہوتا ہے کہ ہر اضافی دن پر چار ہزار روپے یومیہ وصول کیے جائیں گے مگر یہ اس صورتحال میں ہوتا تھا جب ایک یا دو روز تاخیر ہوتی تھی۔ ’اگر ایک مہینہ تک گاڑی کھڑی ہوجائے تو پھر یہ رقم بھی وارے میں نہیں آتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ تقریبا ڈھائی تین ہزار کنٹینر نیٹو کے سامان سے لدے ہوئے ہیں، اتنے تو پاکستان میں ویئر ہاؤسز بھی نہیں ہیں کہ جو سامان ڈمپ کیا جا سکے، ان گاڑیوں کو تو اب کوئی پمپ یا ہوٹل والا بھی کھڑا ہونے نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اعلان کر چکے ہیں کہ نیٹو سپلائی کو تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا۔

ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ کسٹم قوانین کے مطابق بندرگاہ سے اگر کوئی کنٹینر یا ٹینکر نکلتا ہے جب تک وہ افغانستان میں سامان چھوڑ کر نہیں آتا اسے دوسرا سامان اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔’ جن ٹرالروں پر کنٹینر موجود ہیں ان پر تین چار ٹن وزن ہے جس کی وجہ سے ٹرالروں کے ٹائر بھی خراب ہو رہے ہیں یہ نقصان بھی ٹرانسپورٹر کو ہی پہنچے گا۔‘

افغانستان کو طورخم اور چمن بارڈر کے ذریعے تیل اور سامان کی فراہمی کی جاتی ہے، آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کے رہنما اسلام شنواری کا کہنا ہے کہ بحرین میں تیل کی نیلامی ہوتی ہے، اس کے بعد تیل کمپنیاں مقامی کانٹریکٹروں کی مدد سے تیل افغانستان منتقل کرتی ہیں اور اس پورے مرحلے میں امریکہ کا نہیں بلکہ مقامی ٹرانسپورٹروں کونقصان پہنچ رہا ہے۔

اسلام شنواری کے مطابق کچھ عرصے پہلے ایک سروے کیا گیا تھا جس کے تحت بارہ ہزار گاڑیاں افغانستان جاتی تھیں اور وہاں کی آٹھ ہزار گاڑیاں پاکستان آتی تھیں اب ان کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے جو تمام رکی ہوئی ہیں ۔

پاکستان اور امریکہ میں سینتالیس روز گزرنے کے باجود نیٹو کی فراہمی بحال کرنے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، آنے والے دنوں میں مجموزہ دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور آنے کا امکان ہے۔ امریکی حکام کہہ چکے ہیں کہ وہ پر امید ہیں کہ یہ فراہمی بحال ہوجائیگی۔

اسی بارے میں