غیر آئینی اقدام قبول نہیں: حزبِ اختلاف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک کو درپیش مسائل کا حل فوری انتخابات میں ہے، اپوزیشن

پاکستان میں حکومت مخالف سیاسی جماعتوں نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی غیر آئینی اقدام یا مداخلت قابل قبول نہیں اور موجودہ سیاسی صورت حال کا حل جمہوری طریقے سے ہی تلاش کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ کے قائد میاں نوازشریف کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ، پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاؤ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، جمعیت اہلحدیث، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ہم خیال کے سربراہان نے شرکت کی۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کی دعوت پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس اجلاس میں اس بات پر اتفاقِ رائے پایا گیا کہ ہے کہ جو بھی قدم اٹھانا ہوگا وہ آئین اور جہموری نظام کے اندر رہ کر مل کر اٹھایا جائے گا۔‘

احسن اقبال نے بتایا کہ اجلاس میں تمام رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل فوری انتخابات میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام رہنما اس بات پر بھی متفق ہیں کہ عام انتخابات کے لیے آزاد اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا جائے۔

احسن اقبال کے مطابق تمام رہنما اپنی جماعتوں سے مشاورت کریں گے جس کے بعد عنقرب دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں ان نکات کو آگے بڑھانے اور ان پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ لائحمہ عمل اور حکمت عملی وضح کی جائے گی۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مرکزی پارلیمانی پارٹی نے جمعرات کو فیصلہ کیا تھا کہ میاں نواز شریف فوری انتخابات کے انعقاد کے لیے حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک، اجتماعی استعفوں اور عوامی احتجاجی تحریک پر مشاورت کریں گے۔

ایک سوال پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ اجلاس میں ان تمام تجاویز پر حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی گئی اور اس بارے میں انہیں اعتماد میں لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتیں اتفاق رائے سے جو بھی حمکمت عملی وضح کریں گے اس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

حکومت کی اتحادی جماعت اے این پی کی جانب سے جمعہ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمہوری نظام اور حکومت کی حمایت میں پیش کی جانے والی قرارداد پر پوچھے گئے ایک سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ جمعرات کو قائد حزب اختلاف کے دفتر میں حکومت مخالف جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں اتفاق رائے سے یہ طے پایا تھا کہ حکومت کی طرف سے جو بھی اقدامات کیے جائیں گے ان کا باہمی مشاورت سے مل کر رد عمل ظاہر کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ مشاورت جاری ہے اور پیر کو بھی قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے مشاورت ہوگی اور اتفاق رائے سے اس بارے میں حمکت عملی طے کی جائے گی۔

اسی بارے میں