’عوام کے پاس جائیں گے، بھیک نہیں مانگیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حزبِ اختلاف کو شاید یہ غلط فہمی ہےکہ ہم این آر او یا فوج سے بچنے کے لیے اسمبلی میں آئے ہیں:وزیراعظم گیلانی

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کو پارلیمان کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے سیاسی قیادت کی کوششوں کی تائید اور حمایت میں قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔

قرارداد میں جمہوریت کے لیے سیاسی قیادت کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور یقین کا اعادہ بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ ہر ادارہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرے۔

قرارداد پیش ہونے سے قبل قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ وہ متفقہ طور پر منتخب وزیرِ اعظم ہیں اور اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے اور ’اگر کوئی عذاب آ بھی گیا تو ہم عوام کے پاس چلے جائیں گے مگر بھیک نہیں مانگیں گے۔‘

اس سے پہلے حکومتی اتحاد میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اسفندر یار ولی نے قرراداد پیش کی تاہم اس پر بحث پیر کو ہو گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت قرار داد کو اکثریت کے بل بوتے پر بلڈوز نہیں کرنا چاہتی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکمران پارٹی کی حلیف جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے تصدیق کی کہ قرراداد کے مسودے میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تبدیلی کی گئی ہے۔

وزیر اعظم کا خطاب بظاہر طے شدہ نہیں تھا اور ان کا لب و لہجہ بھی ماضی کی نسبت نرم تھا۔ انھوں نے اپوزیشن پر تنقید کرنے کی بجائے جمہوریت اور پارلیمان کے استحکام پر زیادہ زور دیا۔ انہوں نے حزبِ اختلاف کے رہنماء چوہدری نثار کی طرف متعدد بار اشارہ کرتے ہوئے بات کی۔

پارلیمان کا اجلاس طلب کرنے پر حزبِ اختلاف کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ’آپ یہ کہتے ہیں کہ ایسی کیا مصیبت پڑی کہ ہم سب اکھٹے ہوگئے، تو کیا سترہ جج ایک رات میں اکٹھے نہیں ہو گئے تھے۔ حالانکہ وہ ایک غلط فہمی تھی۔ جب مشکل وقت آتا ہے تو تمام برداری حتٰی کہ کوّے بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں، ہم تو ایک پارلیمنٹ ہیں۔‘

وزیر اعظم کے اس بیان پر ہاؤس میں بعض اراکین کے قہقہے گونجنے لگے۔

قومی اسمبلی میں پپیش کی جانی والی قرارداد کے متن میں لکھا گیا ہے ’یہ ایوان سمجھتا ہے کہ موجودہ جمہوری نظام، جو کہ چار سال کی مدت مکمل کرنے کو ہے، پاکستانی عوام کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا ہے ۔ یہ ایوان جمہوری قوتوں کے اس یقین کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کے مستقبل اور اس کے لوگوں کی بقاء، جمہوریت کے تسلسل اور جمہوری اداروں کی مضبوطی اور قومی مسائل کا آئینی حل، وفاق کی مضبوطی اور پاکستان کے عوام کو با اختیار بنانے میں ہے۔‘

قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی مدت میں کمی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے کسی دوسرے ادارے کو نہیں۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں حزبِ اختلاف کو آئینی ترمیم کی دعوت دیتے ہوئے کہا ’میں قائد حزبِ اختلاف اور اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ایسا آئین بنائیں جس کی تشریح دوسروں کو نہ کرنی پڑے۔‘

ان کا کہنا تھا ’اگر آپ اور قوم حکومت کو پانچ سال تک برداشت نہیں کر سکتے تو آئینی قرارداد کے ذریعے اس کی مدت کم کر دیں۔ ہم لوگ تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ادارے قائم رہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومتی اتحاد میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندر یار ولی نے قرراداد پیش کی

انہوں نے انیس سو ننانوے میں نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بینظیر بھٹو نے ان سے کہا تھا کہ ‘یہ سیج ہمارے لیے نہیں سجائی گئی اور یہاں نہ ہم آئیں گے اور نہ وہ (نواز شریف)۔‘

’حزبِ اختلاف کو شاید یہ غلط فہمی ہے کہ ہم این آر او یا فوج سے بچنے کے لیے اسمبلی میں آئے ہیں، اس موقع پر انہوں نے میڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہم شہید ہونے نہیں آئے اور اگر زیادہ عذاب آ بھی گیا تو ہم عوام میں چلے جائیں گے مگر کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔‘

وزیرِ اعظم نے حزبِ اختلاف کو خبردار کرتے ہوئے کہا ‘اگر اب بھی کوئی سیج سجائی گئی تو وہ نہ آپ کے لیے ہوگی نہ ہمارے لیے۔‘

اس سے قبل قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنماء چوہدری نثار نے ایمرجنسی اور مختصر نوٹس پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ اس کی ضرورت کیا آن پڑی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کی غرض سے پارلیمان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے جس کی وہ سختی سے مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نماز جمعہ کا وقت ہے اس لیے وہ قرراداد پر بات نہیں کریں گے اور بہتر ہو گا کہ اس پر پیر کو ووٹنگ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم گیلانی نے کوّوں کی بات کی ہے تو ’ہم کوّے نہیں ہیں اس لیے ان کے ارگرد نہیں گھومتے اور جو اردگرد گھومتے ہیں ان کی جو مرضی ہے کہہ لیں۔‘

اس موقع پر وزیر اعظم نے حز بِ اختلاف کے رہنماء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’پہلے کبھی کوئی آرمی چیف پارلیمنٹ میں آیا؟ ڈی جی آئی ایس آئی آیا؟ آکر آپ کے ساتھ ان کیمرہ یا آؤٹ آف کیمرہ ان کے ساتھ آپ نے سوال جواب کیا ؟ میری زندگی میں تو میں نے نہیں دیکھا یا پہلی مرتبہ ہوا کہ وہ اس پارلیمینٹ کے سامنے جوابدہ ہوئے۔‘

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہر کوئی اپنے ادارے کی مضبوطی چاہتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔

وزیرِاعظم نے کہا ’آپ صدر اور وزیرِ اعظم کو بُھول جائیں اور پارلیمنٹ کو مضبوط کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

قومی اسمبلی میں خلاف معمول نسبتاً تناؤ کا ماحول تھا۔ عممومی طور پر اراکین پارلیمان سیشن شروع کرنے سے پہلے ایک دوسرے کے ڈیسک پر جا کر گپ شپ کرتے ہیں لیکن آج سب اپنی نشستوں تک ہی محدود رہے۔

وزیراعظم کے خطاب کا پرجوش طریقے سے استقبال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے پرجوش تقریر کی اور حکومت کی اتحادی جماعتوں نے کئی مرتبہ ان کی تقریر کے دوران ڈیسک بجائے۔

وزیرِ اعظم تقریر کے دوران پُراعتماد رہے اور انہوں نے بار بار اس پر زور دیا کہ ان کی منتحب حکومت ہے۔

وزیراعظم کی نسبتاً نرم لہجے میں تقریبا پندرہ منٹ سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی تقریر کے بعد اسفندیار ولی نے قرارداد پیش کی۔

سیشن ایک گھٹنے کی تاخیر سے شروع ہوا اور ستتر منٹ تک جاری رہا ۔اجلاس میں کل دو سو بارہ اراکین موجود تھے۔

اسی بارے میں