کم عمر آئی ٹی ماہر ارفع کریم کا انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نو برس کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل امتحان پاس کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچانے والی پاکستانی لڑکی ارفع کریم رندھاوا علالت کے باعث لاہور میں انتقال کر گئیں۔

ان کی عمر سولہ برس تھی اور انہوں نے دو ہزار چھ میں یہ امتحان پاس کیا تھا جس کے بعد مائیکرو سافٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس نے ارفع کریم کو خصوصی طور پر امریکہ بلا کر ان سے ملاقات کی تھی۔

انہیں نومبر دو ہزار چھ میں دوبارہ مائیکرو سافٹ کے ہیڈکوارٹر مدعو کیا گیا۔

ارفع کریم کو گزشتہ ماہ کی بائیس تاریخ کو مرگی کے دورے کے بعد طبیعت بگڑنے پر لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ کومے کی حالت میں رہیں اور چودہ جنوری کی شب کو انتقال کر گئیں۔

ان کی نمازِ جنازہ اتوار کی صبح لاہور میں ادا کی گئی جس کے بعد ان کا جسدِ خاکی فیصل آباد لے جایا گیا جہاں ان کی تدفین کر دی گئی۔

ارفع نے لاہور گرائمر سکول سے اے لیولز کیا تھا۔

انہوں نے کئی انعامات بھی حاصل کیے۔ سنہ دو ہزار پانچ میں انہیں فاطمہ جناح گولڈ میڈل دیا گیا، اس کے علاوہ ان کو سلام پاکستان ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

حکومت پاکستان کی طرف سے ارفع کریم رندھاوا کو حسن کارکردگی کا صدارتی ایواڈ بھی دیا گیا تھا۔