ضلعی پولیس افسر کے دفتر پر حملہ، سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اِس واقعے میں مجموعی طور پر سات ہلاکتیں ہوئیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مُسلح شدت پسندوں نے ضلعی پولیس افسر کے دفتر پر دستی بموں سے حملہ کیا جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جوابی کارروائی کی۔ کارروائی میں دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے دفتر پر قابو پا لیا ہے۔ تاہم علاقے میں ابھی بھی ممکنہ طور پر فرار ہونے والے شدت پسندوں کی تلاش جاری ہے۔

اس کارروائی میں مجموعی طور پر سات ہلاکتیں ہوئیں جن میں ایک پولیس اہلکار، دو عام شہری اور تین شدت پسند شامل ہیں جبکہ ایک ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کے بارے میں تصدیق نہیں کی گئی۔

ضلعی انتظامیہ نے حملہ آوروں کی تعداد پانچ بتائی جن میں سے دو کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ مزید دو حملہ آوروں کی تلاس جاری ہے۔

ڈیرہ سماعیل خان میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ یہ باقعہ سنیچر کی دوپہر کو ڈیرہ بجے کچہری کے علاقے میں واقع پولیس کے ضلعی سربراہ کے دفتر پر پیش آیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا شدت پسند پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے اور تمام مُسلح تھے۔ اہلکار کے مطابق شدت پسندوں نے دفتر کی چھت پر چھڑنے کی کوشش کی جس دوران ایک شدت پسند مارا گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعے کے خوف سے علاقے میں لوگوں نے دکانیں اور مارکٹیں بھی بند کردی گئیں۔

اہلکار کے مطابق اس واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور کچہری سے ملنے والے تمام راستوں کو بند کردیاگیا تھا۔

علاقے میں موجود نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں پولیس کو فوج کی مدد بھی حاصل تھی۔

اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراطلاعات میاں افتخار حُسین نے بتایا کہ شدت پسندوں کی کاروائی سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ایک مضبوط منصوبہ بنایا ہوگا جس کی مدد سے وہ اتنے حساس علاقے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ سکیورٹی کے ناقص انتظامات کو بھی رد نہیں کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا دوبارہ ڈرون حملے شروع ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ اب شدت پسندوں کا ایک کاروبار بن گیا ہے اگر وہ یہ کریں تو ان کاروبار ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان نے اگر آپس میں اتفاق سے ان دہشت گردوں کو ختم نہیں کیا تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور دہشت گردوں کو نفسیاتی طور پر برتری حاصل ہوچکی ہے۔ میاں افتخار کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے علاوہ فوجی بھی موجود ہے اور وہ بھی شدت پسندوں کے خلاف کاروائی میں شامل ہوئے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس تھانوں پر حملے ہو چکے ہیں جس پولیس اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔

گزشتہ سال جون میں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں تھانے پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے اور اس کے بعد پانچ گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی میں آٹھ پولیس اہلکار اور دو خود کش حملہ آور ہلاک جبکہ پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں