’وزیراعظم کے انٹرویو پر بات نہیں ہوئی‘

آصف زرداری اور اشفاق پرویز کیانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی جس میں سکیورٹی کی صورت حال کے ساتھ ساتھ متنازعہ میمو پر بات چیت ہوئی: مقامی ذرائع ابلاغ

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان نے صدر اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے صدر سے وزیراعظم گیلانی کے بیان کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی جانب سے مبینہ میمو کے معاملے پر سپریم کورٹ میں حکومت کی منظوری کے بغیر حلفیہ بیانات جمع کرانے کو غیر آئینی فعل قرار دیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے نامعلوم ذرائع سے یہ خبر دی تھی کہ آرمی چیف نے صدر سے وزیراعظم کے فوجی قیادت کے متعلق حالیہ بیانات کے بارے میں شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ ان بیانات کی وضاحت کی جائے یا انہیں واپس لیا جائے۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صدر اور آرمی چیف کے مابین ہونے والی بات چیت کے بارے میں ذرائع کا حوالہ دیے بغیر شائع کی گئی یہ خبریں تصوراتی ہیں اور خیال آرائی اور قیاس آرائی کے زمرے میں آتی ہیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہفتے کی شام کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

صدر کے ترجمان آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی۔

انہوں نے فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیل تو نہیں بتائی البتہ انھوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران ملک میں سکیورٹی کی موجودہ صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات فوج کے سربراہ کی خواہش پر ہوئی۔

اسی بارے میں