راضی نامے کےبعد ایرانیوں کی رہائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تینوں ایرانی اہلکاروں پر نو، نو ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے

بلوچستان کے علاقے ماشکیل کی ایک مقامی عدالت نے ایرانی سرحدی فورس کے ان تین اہلکاروں کی رہائی کا حکم دیا ہے جو ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت اور غیر قانونی طور پر پاکستانی حدود میں داخل ہونے کے الزام میں دو ہفتوں سے زیرِ حراست تھے۔

ان افراد کی رہائی کا حکم مقتول کے ورثاء سے راضی نامے کے بعد دیا گیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کو مقتول سعید ریکی کے والد نے ان تینوں افراد کو معاف کرنے کے لیے فریقین کا راضی نامہ عدالت میں جمع کروایا۔

اس پر عدالت نے تینوں کو قتل کے الزام سے بری کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں نو، نو ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانہ جمع نہ کروانے کی صورت میں ملزمان کو قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

یہ تینوں اہلکار یکم جنوری کو نہ صرف غیر قانونی طور پر تین کلومیٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تھے بلکہ ان کی فائرنگ سے ایک پاکستانی شہری سعید ریکی ہلاک اور اس کا بھائی عبدالسلام زخمی ہوا تھا جس پر فرنٹیئر کور نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں ایرانی اہلکاروں کو حراست میں لیا تھا۔

بعد میں سعید ریکی کے والد نے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

اسی بارے میں