چہلم کے جلوس میں دھماکہ، سترہ ہلاک

رحیم یارخان، دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھماکے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے

پاکستان میں پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یارخان کی تحصیل خان پور میں امام حسین کے چہلم کے سلسلے میں نکالے جانے والے جلوس میں دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم سترہ افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈی سو او رحیم یار خان احمد جاوید قاضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی یہ ایک بم دھماکہ تھا اور اس میں سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ملتان میں نامہ نگار غظنفر عباس کے مطابق ضلع رحیم یار خان سے چالیس کلومیٹر شمال میں واقع تحصیل خان پور میں شاہی روڈ پر درخواستی چوک کے قریب واقع دربار حسین کے نزدیک دھماکا اس وقت ہوا جب امام حسین کے چہلم کے سلسلے میں نکالا گیا جلوس وہاں سے گزر رہا تھا۔

اس سے پہلے آر پی او بہاول پور عابد قادری نے کہا تھا کہ دھماکہ چہلم کے جلوس کے نزدیک ٹرانسفارمر پھٹنے سے ہوا۔ ان کے مطابق ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دھماکہ تخریب کاری کا نتیجہ نہیں ہے تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے۔

تاہم عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکہ تخریب کاری کا نتیجہ تھا۔ شاہدین کے مطابق دھماکہ خیز مواد بجلی کے پول کے نیچے دفن کیا گیا تھا جس کے اوپر دو سو کے وی کا ٹرانسفر نصب تھا۔ مقامی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور صحافیوں سمیت کسی کو بھی دھماکے کی جگہ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ڈی پی او رحیم یار خان سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا پتہ چلانے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کیا گیا ہے۔اس سانحہ سے متعلق تفصیلات ابتدائی تفتیش کے بعد میڈیا کو دی جائیں گی۔ زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال خان پور اور شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان منتقل کیا گیا ہے۔

لاہور میں نامہ نگار عباد الحق کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کے مطابق پہلے یہ اطلاع آئی تھی کہ یہ دھاکہ ٹرانسفارمر پھٹنے سے ہوا۔

کمشنر خانپور محمد مشتاق کا کہنا ہے کہ یہ خودکش حملہ نہیں تھا جبکہ صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اس بات کی چھان بین کی جارہی ہے کہ بم کہاں نصب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں