’یہ نہیں ہوسکتا عدلیہ یا فوج نظام کو ختم کردیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھاری اکثریت سے منظور کردہ قرارداد میں کہا ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور عوام کی خوشحالی جمہوری عمل کے تسلسل میں ہے۔

حکمران اتحاد کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پیر کی رات دیر تک جاری رہنے والے اجلاس میں بھاری کثرت رائے سے منظور کی گئی۔ مسلم لیگ (ن) اور آفتاب شیرپاؤ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدلیہ ہو یا فوج اختلاف رائے تو ہوسکتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ نظام کو ختم کردیں۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور انیس جنوری کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

وزیراعظم نے قرارداد کی منظوری کو جمہوریت کے لیے ایک تاریخی عمل قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے یہ قرارداد حکومت نہیں بلکہ جمہوریت اور پارلیمان کو مستحکم کرنے کی خاطر منظور کرائی۔ انہوں نے قرارداد منظور کرنے والے تمام اراکین کو سلام پیش کیا اور کہا کہ آج تمام ادارے طاقتور بننا چاہتے ہیں اور ایسے میں پارلیمان کیوں طاقت ور نہ ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ چار سالہ میں کبھی طیش میں نہیں آئے لیکن جب بے انصافی ہوگی تو پھر طیش بھی آتا ہے۔ انہوں نے عدلیہ کا نام لیے بنا کہا کہ ’این آر او‘ جاری کرنے والوں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں ہوتی؟

انہوں نے کہا کہ ’میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی نشست پر بیٹھے ہیں انہوں نے جمہوریت کی خاطر جان دی۔۔ میں بھی جمہوریت کا دفاع کروں گا۔‘

اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت ناکام ہوگئی ہے اور انہیں اگر مطلوبہ اکثریت مل جائے تو وہ تحریک عدم اعتماد لانے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کریں گے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی طور پر بھی حکومت گرانے کے لیے غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر کڑی تنقید کی اور نام لیے بغیر بابر اعوان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ’پیپلز پارٹی میں آنے سے پہلے یہ بریف کیس لیس لائئر تھے ۔۔۔ ضیاءالحق فاؤنڈیشن کے سرکردہ رکن اور کرائے کے تقریر کرنے والے تھے۔‘

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت کو جب خطرہ لاحق ہوا ہے تو وہ پارلیمان کے پاس ٹھپہ لگوانے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی غلطیاں دیکھے کہ کون سے مشیروں کے مشوروں کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے؟

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا ماتحت اداروں پر اختیار تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری سمجہتے ہیں کہ اگر کہیں مسئلہ ہے تو اس کے لیے مناسب قانونی طریقہ اپنایا جائے۔ انہوں نے آرمی چیف کی جانب سے کیری لوگر بل اور متنازعہ میمو کے معاملے میں بیان بازی کے بجائے سرکاری چینل کے ذریعے موقف پیش کرنے پر زور دیا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا تو جہاں اراکین اسمبلی کی حاضری معمول سے زیادہ نظر آئی وہاں پریس گیلری اور مہمانوں کی گیلریوں میں بھی کافی رش دیکھنے کو ملا۔

اسفندیار ولی کی پیش کردہ قرارداد ایجنڈے کے پانچویں نکتے پر تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ بہت جلد کارروائی مکمل ہوگی۔ لیکن مقررہ وقت پانچ بجے سے ایک گھنٹہ پانچ منٹ تاخیر سے شروع ہونے والا اجلاس رات سوا دس بجے تک جاری رہا۔

سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نکتہ اعتراضات پر کارروائی چلاتی رہیں کیونکہ حکومتی اتحاد اور مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ اراکین متفقہ متن تیار کرنے کے لیے بات چیت کرتے رہے۔

لیکن جب ایک گھنٹہ سے زیادہ مشاورت بے سود ثابت ہوئی تو فریقین میں طے پایا کہ اپوزیشن اپنی ترامیم لائے گی اور انہیں اکثریت رائے سے مسترد یا منظور کیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی ترامیم، عدلیہ کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کرنے، اچھی حکمرانی کے قیام، کرپشن، بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کے خاتمے اور اقتدار اعلیٰ کا مالک عوام کے بجائے اللہ تعالیٰ ہیں۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آئین کے مطابق سب سے پہلے طاقت یا حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور بعد میں عوام کی ہے۔

اسی بارے میں