تنازعوں میں گھری حکومت کے لیے ایک سخت دن

تصویر کے کاپی رائٹ agency
Image caption اسلام آباد کا سیاسی ماحول کافی گرم ہے

پاکستان کی جمہوری حکومت کو ملک کی فوج سے تناؤ کے تناظر میں سپریم کورٹ میں قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کیس پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

پیر کو جہاں ایک سپریم کورٹ میں این آر او پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت ہے تو وہیں متنازع میمو کی تحقیقات کے حوالے سے قائم کمیشن کا اجلاس بھی اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ پیر کو حکومت کے جانب سے سرگرمیاں عروج پر رہیں گی اور پیر کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اپنے حق میں اعتماد کی قرارداد منظور کرانے کی کوشش کرے گی۔

این آر او کیس کی سماعت

سپریم کورٹ میں قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہو رہی ہے جس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیے جانے کا اشارہ بھی دیا جا سکتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پیر کو سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل اس معاملے میں جواب عدالت میں پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دن اتوار کو وزیراعظم نے کہا تھا کہ پارلیمان کا پانچ برس تک قائم رہنا ضروری ہے وزیراعظم کا ضروری نہیں ہیں اور آئین کے مطابق اگر کوئی نیا وزیراعظم آئے گا تو اسے خوش آمدید کہیں گے۔

حکومت اعلان کر چکی ہے کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے سپریم کورٹ نے جو چھ آپشنز دی تھیں اُن میں سے ایک آپشن پر عمل کرتے ہوئے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔

پیر کو سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت ایک ایسے وقت ہو رہی ہے کہ جب ملک کے طاقت وار ادارے فوج اور جمہوری حکومت کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے خاص طور پر متنازع میمو کے معاملے کے عدالت میں جانے کے بعد سے تناؤ موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ منگل کو عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وزیراعظم گیلانی بادی النظر میں ایماندار نہیں رہے

ملکی ذرائع ابلاغ پر جاری تبصروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کے براہ راست مداخلت کے امکانات کافی معدوم ہیں لیکن عدالت کے ذریعے حکومت یا وزیراعظم کو رخصت کیے جانے کے امکانات موجود ہیں۔

این آر او پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی گزشتہ منگل کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم کی نااہلی سمیت چھ ممکنہ حل بتائے اور اس معاملے کو چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس ضمن میں لارجر بینچ تشکیل دیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک سات رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا ہے جو پیر کو سماعت کرے گا۔

سماعت میں ایک دن پہلے اتوار کو وزیراعظم گیلانی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ وہ پارلیمان کو جوابدہ ہیں کسی فرد کو جواب نہیں دیں گے۔

گزشتہ منگل کو سپریم کورٹ نے اپنبے فیصلے میں کہا تھا کہ وزیر اعظم نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور آئین کی پاسداری نہ کرکے اپنے حلف سے روگردانی کی ہے اور بادی النظر میں وہ ایماندار نہیں رہے اور اگر کوئی بھی شخص ایماندار اور امین نہ ہو تو وہ پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔

منگل کی سماعت کے بعد قومی احتساب بیورو نے این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس حوالے سے متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

متنازع میمو، عدالتی کمیشن کا اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منصور اعجاز کے وکیل نے گزشتہ سماعت میں کہا تھا کہ وہ پیر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونگے تاہم تاحال ان کی پاکستان آمد کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے

سپریم کورٹ کے حکم پر متنازع میمو کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کا تیسرا اجلاس اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہا ہے جس میں متنازع میمو کے مرکزی کردار امریکی شہری منصور اعجاز کے پیش ہونے کا امکان ہے۔

گزشتہ پیر کو ہونے والی سماعت میں متنازع میمو سے متعلق تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ امریکی شہری منصور اعجاز کی حفاظت کے لیے فوج یا پولیس کا خصوصی دستہ تعینات کیا جائے۔

منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز سولہ جنوری کو کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے اور عدالتی کمیشن کی ہدایت پر اُن پر مخالف وکیل جرح بھی کر سکتے ہیں۔

آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے کمیشن کے سامنے درخواست دی تھی کہ وہ ان کیمرہ پیش ہونا چاہتے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھے کہ اگر کوئی حساس معلومات ہیں تو ایک لفافے میں بند کرکے کمیشن کو بھجوایا جائے۔ عدالتی کمیشن کی اگلی سماعت سولہ جنوری کو ہوگی۔

اس کے علاوہ بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق امریکہ کے سابق فوجی سربراہ کو پاکستان کے سابق سفیر کی جانب سے مبینہ طور پر تحریر کیے گئے متنازعہ خط کی تفتیش کرنے والے عدالتی کمیشن کے سربراہ کی ہدایت پر کمرہ عدالت میں ویڈیو کانفرنس کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جس کے ذریعے بیرون ملک رابطہ بھی کیا جا سکے گا۔

اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پیر کو سپریم کورٹ میں این آر او عمل پر درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں گی۔

پیر کو سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت کے چند گھنٹوں بعد ہی قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں حکومت اپنے حق میں اعتماد کی قرارداد منظور کرانے کی کوشش کرے گی۔

گزشتہ منگل کو این آر او پر عدالتی فیصلے کے بعد سے اسلام آباد کا سیاسی ماحول کافی گرم ہے اور حکومتی اتحاد کے علاوہ حزب اختلاف کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں حکومت کی کوشش ہو گی کہ اس کے حق میں اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے پیش کردہ قراداد کو متفقہ طور پر منظور کرا لے۔

اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ قاف حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے جب کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے اس قررداد کے متن میں چند ترامیم کی تجویز دی گئی ہے اور اگر حکومت اس کو منظور کی لیتی ہے تو اس صورت میں زیادہ امکان یہ ہی ہے کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر پارلیمان سے منظور ہو جائے گی۔

ماہرین کے مطابق قرارداد کی منظوری کا مقصد سپریم کورٹ اور فوج کو ایک پیغام دینا ہے پارلیمان جمہوریت کے خلاف کسی بھی مداخلت کی مخالفت میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔

اسی بارے میں