توہینِ عدالت کیس، اعتزاز احسن وزیرِ اعظم کے وکیل مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعتزاز احسن نے اس سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ کے لیے بھی درخواست دی ہے

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کے نوٹس کی پیروی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے بارے وزیر اعظم کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے اُنہیں اُنیس جنوری کو بینچ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بیرسٹر اعتزاز احسن انیس جنوری کو وزیر اعظم کے ساتھ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوں گے۔

چوہدری اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کے اُن رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھے اور اُن کے بقول صدر آصف علی زردرای کو اندرون اور بیرون ملک استثنی حاصل ہے اور اُن کے خلاف مقدمات نہیں کھولے جاسکتے۔

یہ مقدمات کالعدم قرار دیے جانے والے این آر او کے تحت ختم کیے گئے تھے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن کا شمار پارٹی کے اُن رہنماؤں میں ہوتا ہے جو موجودہ حکومت کی بعض پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے پر پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے اُنیس فروری سنہ دو ہزار نو میں اعتزاز احسن کی مرکزی مجلس عاملہ کی رکنیت بھی معطل کردی تھی اور اُنہیں نوٹس بھی بھجوائے گئے تھے تاہم اعتزاز احسن کی بنیادی رکنیت بحال رکھی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعتزاز احسن نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا

سابق فوجی پرویز مشرف نے سنہ دو ہزار سات میں سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف جب ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا تو اعتزاز احسن چیف جسٹس کے وکیل کی حثیت سے کونسل کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

اس کے بعد تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے دیگر معزول ججوں کی بحالی کے لیے شروع کی گئی وکلاء کی تحریک میں اعتزاز احسن نےمرکزی کردار ادا کیا۔

پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے جب مارچ سنہ دو ہز ار نو میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججز کو جب اُن کے عہدے پر بحال کیا تو اُس کے بعد اعتزاز احسن نے اعلان کیا کہ وہ چیف جسٹس کی عدالت میں کسی بھی مقدمے کے سلسلے میں پیش نہیں ہوں گے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزا سے متعلق صدارتی ریفرنس میں اعتزاز احسن بطور عدالتی معاون پیش ہو رہے ہیں اور اس صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی بینچ کر رہا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون نے اعتزاز احسن کو راولپنڈی کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی پیش کش کی تھی جو اُنہوں نے مسترد کردی

اعتزاز احسن نے اس سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ کے لیے بھی درخواست دے رکھی ہے اور اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ پارٹی اُنہیں ٹکٹ دے دی گی۔

اسی بارے میں