پاکستان: پولیو متاثرین کی تعداد سب سےزیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دو ہزار گیارہ میں تقریباً دو سوکیسز سامنے آئے ہیں

صحت کے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد دُنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور سال دوہزار گیارہ میں تقریباً دوسو کیسز سامنے آئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور محمکہ صحت کے عہدیداروں نے لاہور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں تہتر، فاٹا میں اٹھاون، سندھ میں تینتیس، خیبر پختونخوا میں تیئیس، گلگت میں ایک جبکہ پنجاب میں نو بچوں میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی۔

محکمہ صحت پنجاب کے ایک افسر ڈاکٹر اظہر مسعود بھٹی نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی ویکسین سو فیصد نتائج نہیں دیتی ہے بلکہ دوائی کے موثر ہونے کا تناسب زیادہ سے زیادہ اسی فیصد ہوتا ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ڈاکٹر اظہر مسعود بھٹی نے کہا کہ حکام کی پوری کوششوں کے باوجود پنجاب میں پولیو کی ہر مہم کے دوران پانچ فیصد بچے جو کہ تعداد میں تقریباً سات لاکھ بنتے ہیں پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے والدین سے گزارش کی کہ وہ اپنے بچوں کو ہر صورت پولیو کے قطرے پلوایا کریں۔

ڈاکٹر اظہر مسعود بھٹی نے کہا کہ پولیو کے وائرس سے بچاؤ کے لئے بچوں کو تین سے سات دفعہ ویکسین پلوانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین کی کوالٹی میں کسی سے کم ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین بھی وہی ہے جو کہ امریکہ، برطانیہ اور بھارت میں استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین کو اس کے استعمال سے پہلے باقاعدہ جانچا جاتا ہے اور یہ عالمی ادارہ صحت سے منظور ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور میں ایک اٹھارہ ماہ کا بچہ جس میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی کل دم توڑ گیا۔ پریس کانفرنس میں موجود عالمی ادارہ صحت کی عہدیدار ڈاکٹر ڈیبرا بیٹل نے اس ہلاکت کو افسوسناک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ماہرین نے بتایا کہ پچھلے برس کی نسبت اس سال پولیو کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کے حکام نے امید ظاہر کی کہ رواں سال میں پاکستان سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا۔