صدر کو استثنٰی حاصل ہے اس لیے خط نہیں لکھا: وزیراعظم گیلانی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کے تحت صدرِ پاکستان کو استثنٰی حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے لیکن پاکستان کا آئین بالادست ہے۔

وزیراعظم جمعرات کی صبح اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ہمراہ توہینِ عدالت پر اظہارِ وجوہ کے نوٹس کی سماعت کے لیے عدالت پہنچے۔ ان کی آمد سے قبل وفاقی وزراء اور اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

حکومت کی اتحادی جماعتوں میں سے اے این پی اور مسلم لیگ ق کے رہنما کمرۂ عدالت میں موجود تھے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی رہنما نظر نہیں آیا۔

وزیراعظم نے عدالت میں پیش ہو کر جج صاحبان کو بتایا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے خلاف اندرون اور بیرونِ ملک کیسز نہیں کھولے جاسکتے۔ ان کے بقول آئین کے تحت صدر کو استثنٰی حاصل ہے اور ہم آئین کے مطابق کام کر رہے ہیں کیونکہ آئین ہی بالادست ہے۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ’میرے یہاں آنے کا مقصد بھی یہ ہی تھا کہ آئین اور آئین کی بالادستی کو مقدم رکھا جائے۔ میں قانون اور آئین کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔ اس لیے میں اور میرے رفقاء یہاں موجود ہیں‘۔

انہوں نے عدالت سے کہا کہ اگر صدر کو عدالت میں بھیجیں گے تو دنیا میں غلط تاثر جائے گا اور صدر دو تہائی اکثریت سے منتخب ہوئے تھے۔

عدالت نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر ملک کا چیف ایگزیکٹو عدالت میں پیش ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور ان کے جذبہ سراہے جانے کے لائق ہے۔

وزیراعظم کا بیان مکمل ہونے کے بعد ان کے وکیل اعتزاز احسن نے وزیراعظم کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لیے توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے اس وقت وزیراعظم کے خلاف فوجداری کارروائی ہو رہی ہے جس میں وزیراعظم کو آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالت نے دو سال پہلے فیصلہ دیا تھا اور اگر وزیر اعظم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں تو پھر اُنہیں سوئس حکام کو خط لکھ دینا چاہیے تھا جس پر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھنے یا نہ لکھنے سے متعلق سیکرٹری قانون ہی جواب دے سکتے ہیں۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ عدالت میں سیکرٹری قانون کے وکیل کی حثیت سے پیش نہیں ہوئے اور وہ وزیر اعظم کو جو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس ملا ہے اُس کی پیروی کے لیے آئے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ جب وزیراعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں تو این آر او پر عملدرآمد کیوں نہیں کرتے جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کے خلاف خط اس وقت لکھا جائے گا جب وہ صدر نہیں رہیں گے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم خط بھی لکھیں گے اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد بھی کریں گے لیکن یہ وقت آنے پر ہوگا۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے وزیراعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ صدر کا استثنٰی ثابت ہونے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن اگر آپ صدر کے معاملے میں استثنٰی لینے میں ناکام رہے تو پھر کیا ہوگا جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اُن کے اُستاد نے کہا تھا کہ کوئی فقرہ اگر سے شروع ہوتا ہو تو اُس کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت جن ججز نے حلف اُٹھایا تھا اور سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے مقدمے میں جواب دینے کے لیے ان ججز کو وقت دینے میں سخاوت کا مظاہرہ کیا تھا اُسی طرح کا مظاہرہ وزیراعظم کے معاملے میں بھی کیا جائے۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انہیں اس مقدمہ کا تمام ریکارڈ نہیں ملا ہے جس پر جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا چونکہ مقدمہ کا تمام ریکارڈ موجود ہے اس لیے انہیں فکرمند نہیں ہونا چاہیے تاہم اعتزاز احسن نے عدالت سے کہا کہ انہیں مطالعہ کرنے کے لیے اس مقدمہ کا ریکارڈ چاہیے۔

اس پر عدالت نے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے وزیراعظم کو اس مقدمے میں حاضری سے مستثنٰی قرار دے دیا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ یکم فروری کو ہونے والی سماعت میں صدر کے استثنٰی سے متعلق آئین کے آرٹیکل 248 -2 پر بات ہو گی۔

وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرنے کے لیے آئے تو وکلاء کے ایک گروپ نے شدید نعرے بازی کی۔ اُنہوں نے اعتزاز احسن کا نام لیے بغیر یہ نعرے بھی لگائے کہ ’زرداری اور گیلانی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘۔

ان نعروں کے جواب میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی نعرے بازی کی تاہم وہاں پر موجود پارٹی کے رہنماؤں نے اُنہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی۔

وکلاء کا ایک گروپ چیف جسٹس کو مخاطب کرکے جب یہ نعرہ لگا رہا تھا کہ ’چیف تیرے جانثار بےشمار بےشمار‘ جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس میرے بھی تو چیف جسٹس ہیں‘۔

سماعت کے موقع پر جمعرات کی صبح سے ہی سپریم کورٹ کو جانے والے تمام راستوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور سکیورٹی سخت تھی۔ وکلاء اور میڈیا کے نمائندے پیدل سفر کر کے سپریم کورٹ پہنچے۔

اسی بارے میں