بیسویں آئینی ترمیم: قوم پرستوں کے تحفظات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے ملک کے آئین میں مجوزہ بیسویں آئینی ترمیم پر اپنے تحفظات کا |ظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم نےمنگل کو قومی اسمبلی میں آئین میں بیسویں ترمیم کا بل پیش کیا تھا جس کے تحت پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ پروگریسیو نیشنلسٹ الائنس کے کنوینر سید جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ اس شرارت میں ایم کیو ایم اکیلی نہیں ہے اس کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہے۔

ان کے بقول یہ معاملہ آئین کے مطابق صوبائی اسمبلیوں میں آنا چاہیے تھا، قومی اسمبلی کی سپیکر اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے اس کی اجازت کیسے دے دی یہ عمل سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔

جلال شاہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی بنیاد کی روح کے بھی منافی ہے، سندھ، بلوچستان اور بنگال کسی یونٹ کے طور پر نہیں بلکہ بطور قوم پاکستان میں شامل ہوئے تھے اب اگر ایسا کچھ ہوتا تو قومی وحدتیں بھی اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔

عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ یہ ترمیمی بل جمہوریت کی روح کے منافی ہے، تمام قوم پرست جماعتیں پاکستان میں سنہ انیس سو چالیس کی قرار داد کے تحت صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، حالیہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں مانا گیا ہے کہ صوبوں کو اختیارات ملنے چاہیں مگر ایم کیو ایم صوبائی اسمبلیوں کا یہ اختیار چھین کر وفاق کو دینا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا ’سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کوئی مفتوحہ علاقہ نہیں ہیں، ہم رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شامل ہوئے تھے، اب سندھ کے لوگ وفاق کو اختیار دے دیں، جہاں پچپن فیصد نشستیں ایک صوبے کی ہیں وہ طے کریں گے کہ کون کون سا صوبہ بننا چاہیے۔‘

ایاز لطیف کے مطابق اگر ایم کیو ایم لوگوں کو اختیارات کی منتقلی کے لیے فکر مند ہے تو پہلے کراچی کو پانچ اضلاع میں تقسیم کرنے کی تو حمایت کرے ۔

جئے سندھ قومی محاذ کے سیکریٹری جنرل آصف بالادی بیسویں آئینی ترمیم کے بل کو متحدہ قومی موومنٹ کا یہ ایک غلط اقدام قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق وہ سندھ کی کسی بھی صورت میں تقسیم کے سخت خلاف ہیں اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو حکومت کو سندھ کے لوگوں اور جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آصف بالادی کا کہنا تھا کہ ایسی کوششوں سے ایم کیو ایم کو بھی نقصان پہنچے گا کیونکہ سندھی عوام پہلے ہی ان کی سیاست کومشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کے اقدام سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

جئے سندھ قومی محاذ اور ایم کیو ایم کا سندھ میں ایک بڑے عرصے تک غیر اعلانیہ اتحاد رہا ہے، ڈاکٹر آصف بالادی کا کہنا ہے کہ سندھ میں یا ملک کے اندر نسلی یا فرقہ وارنہ بنیادوں پر جو سیاست ہو رہی ہے اس کا نقصان پورے ملک کو پہنچے گا۔

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے اپنی مجوزہ ترمیم میں مطالبہ کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے صوبائی اسمبلیوں سے قرار داد منظور کرانے کی شق ختم کی جائے اور نئے صوبے ریفرنڈم کے ذریعے بنائے جائیں۔

کراچی میں پچھلے دنوں نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے وال چاکنگ سامنے آئی تھی، متحدہ قومی موومنٹ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور تنظیم کے سربراہ الطاف حسین سمیت تمام رہنماوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایم کیو ایم کسی صورت میں سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے گزشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ترمیم کسی ایک صوبے کے لیے نہیں بلکہ تمام صوبوں کے لیے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر رہتے ہوئے نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتی ہے۔ وہ ملک کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں اور نہ زبان کی بنیاد پر تقسیم چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں