شریف خاندان:جائیداد کی واپسی کا حکم

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اس معاملے کی چھان بین کرچکی ہے اور شریف فیملی کے کسی فرد کو کسی بھی مقدمے میں سزا نہیں دی گئی۔

سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے حکام کو سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف، وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اس خاندان کے دیگر افراد کی ضبط کی ہوئی کروڑوں روپے کی جائیداد واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نیب کی طرف سے شریف برادران کی جائیداد کی ضبطگی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اور اُنہیں کسی بھی مقدمے میں سزا نہیں سُنائی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں نیب کے حکام کو میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف سمیت چار پٹیشنروں کو ڈیڑھ لاکھ روپے حرجانہ ادا کرنے کے بارے میں بھی کہا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کی۔

نیب کے پراسکیوٹر جنرل کریم خان آغا نے عدالت میں میاں نواز شریف اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی پیش کی جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دو افراد کے درمیان تو ہوسکتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا معاہدہ جو شریف خاندان اور نیب کے درمیان ہوا ہو تو اُس کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ ایسے اثاثے جو ضمانت کے طور پر رکھوائے جاتے ہیں وہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں نیب کے نہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اس معاملے کی چھان بین کرچکی ہے اور شریف فیملی کے کسی فرد کو کسی بھی مقدمے میں سزا نہیں دی گئی۔

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے جائیداد کی واپسی کے لیے شریف برادران کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں میں وفاق کو فریق بنائے بغیر فیصلہ سُنا دیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اٹک قلعے میں قائم احتساب عدالت اور راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے طیارہ سازش کیس میں عمر قید اور جُرمانے کی سزا سُنائی تھی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے طیارہ سازش کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے میاں نواز شریف کی سزا کالعدم قرار دے دی تھی جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے احستاب عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے وطن واپسی کے بعد نیب سے جائیداد کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی جس پر گُزشتہ برس لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ نیب شریف خاندان کی جلا وطنی کے دوران مختلف مقدمات میں ان کی ضبط شدہ جائیدادیں واپس کر دے جس کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی تھیں ۔