’ایشو دوسرا تھا لیکن حکم پر سرِ تسلیم خم‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

توہینِ عدالت کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ معاملہ استثنٰی کا نہیں تھا اور عدالت نے انہیں اس معاملے پر دلائل دینے پر مجبور کیا ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت کے بعد احاطۂ عدالت میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا عدالت میں پیش ہونا کوئی چھوٹی بات نہیں اور یہ عدالت کا احترام ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی محترم اور اہم ہے اور وزیراعظم اسی احترام میں زیادہ لوگوں کو ساتھ نہیں لے کر آئے اور سیاسی رہنماء اور وزراء اپنے طور پر عدالت آئے۔

ایک سوال پر اعتزاز احسن نے کہا کہ یکم فروری کو جب اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہو گی تو وہ صدر کے استثنٰی کے آئینی آرٹیکل دو سو اڑتالیس پر بھی بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا ’عدالت نے اس بارے میں مجھے مجبور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایشو دوسرا تھا لیکن عدالت کے حکم پر سرِ تسلیم خم ہے‘۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ میں ’آرٹیکل 248 پر بھی عدالت کو مطمئن کروں گا، ان کی تسلّی کرواؤں گا کہ یہ جو معاملہ ہے اس میں استثنٰی مکمل ہے،۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جب اعتزاز احسن ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے اس وقت سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پر موجود وکلاء نے حکومت اور حکومتی وکلاء کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

اس جانب توجہ مبذول کروائے جانے پر اعتزاز نے کہا کہ چیف جسٹس ان کے بھی ہیں اور نعرے بازی کرنے والے بھی ان کے ساتھی ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا اگر صدر کا استثنٰی ثابت نہیں ہوتا تو حکومت خط لکھے گی، اعتزاز احسن نے کہا ’اس کا جواب میں نے عدالت کو دیا تھا‘۔

عدالت میں اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ وزیراعظم خط بھی لکھیں گے اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد بھی کریں گے لیکن یہ وقت آنے پر ہوگا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آصف علی زرداری کے خلاف خط اس وقت لکھا جائے گا جب وہ صدر نہیں رہیں گے۔

اسی بارے میں