بلوچستان:’نیٹو سپلائی کی کوشش ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں فرنٹیئر کور نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں مبینہ طور پر افغانستان میں نیٹو افواج کو تیل اور خوراک پہنچانے کی کوشش ناکام بنا دی اور بارہ کینٹنرز کو تحویل میں لیکر ڈرائیوروں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کے روز فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں افغانستان میں نیٹو افواج کو تیل اور دیگر ساز و سامان کی سپلائی جاری رہنے کے شک میں ایک بار پھر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان میں جانے والے کنٹینروں کی تلاشی لی۔

اس دوران تلاشی پر بارہ کنٹینرز ایسے پائے گئے جس میں ڈیزل اور کھانے پینے کی اشیا لوڈ تھیں جو مبینہ طور پر افغانستان میں نیٹوافواج کے لیے جا رہی تھیں۔

کوئٹہ میں ایف سی ذرائع نے تلاشی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عموماً افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے تیل کی سپلائی آئل ٹینکروں میں ہوا کرتی تھی۔

ایف سی کے ذرائع کے مطابق پابندی کے بعد بعض تاجروں نے غیرقانونی طور پر اس مقصد کے لیے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت پاکستان سے افغانستان جانے والے کنٹینروں کو استعمال کرنا شروع کیا تھا۔جس کو روکنے کے لیے جمعرات کو فرنٹیئر کور کو پہلی بار کامیابی ملی ہے۔

یاد رہے کہ نیٹوسپلائی بند ہونے کے بعد مختلف اوقات میں فرنٹیئر کور نے چمن ہی کے مقام پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینروں کی تلاشی لی تھی لیکن انہیں ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس پر شک ہو کہ یہ نیٹوافواج کے لیے جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی دفاعی کمیٹی نےگزشتہ سال چھبیس نومبر کو افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے ہر قسم کی سپلائی پر اس وقت پابندی عائد کی جب نیٹوافواج کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سلالہ کے مقام پاکستانی سکیورٹی فورسز کی دو چیک پوسٹوں پر حملہ کیا گیا تھا۔ جس میں چوبیس فوجی ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں