طالبان کی صحافیوں کو دھمکیاں

تصویر کے کاپی رائٹ

طالبان نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کے رپوٹر مکرم خان عاطف کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان کا موقف پیش نہ کرنے پر صحافیوں کو ہلاک کرنے دھمکی دی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی حقیقت چُھپانے کی کوشش نہیں کی اور نہ صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا بلکہ ان کی کوشش رہی ہے کہ تمام حقیقت کو سامنے لایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض غیر مُلکی نشریاتی ادارے یکطرف رپورٹنگ کرتے ہیں جس میں صرف حکومت کے موقف کو شامل کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف طالبان کے موقف کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

طالبان ترجمان نے ایک غیر مُلکی نشریاتی ادارے کے رپوٹر مُکرم خان عاطف کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کو کئی بار طالبان کا موقف بیان کرنے کا کہا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔طالبان کے ترجمان نے ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے علاقے میں ہونے والے ایک خودکُش حملے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مُکرم خان نے اس واقعہ میں طالبان کا موقف بیان نہیں کیا تھا۔

ان کے مطابق جب مُکرم خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے طالبان کا موقف کیوں پیش نہیں کیا تو ان کا جواب تھا کہ ادارے کی پالیسی کے مطابق وہ طالبان کا موقف بیان نہیں کرسکتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایک نشریاتی ادارہ یکطرفہ رپورٹنگ کرتا ہے تو ان کے رپورٹر کو چاہیے کہ وہ اس ادارے کو چھوڑ دیں۔

اسی بارے میں