خواتین کے قومی کمیشن کا بل منظور

پاکستانی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کمیشن خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کا ازالہ کرے گا

پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے خلاف امتیاز ختم کرنے کے لیے ’قومی کمیشن برائے خواتین بل 2011‘ اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے اس بل پر ابتدا میں کچھ تیکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے لیکن بعد میں حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے مختلف شقوں میں ترامیم کیں اور یہ بل منظور کر لیا گیا۔

بل کے مطابق یہ کمیشن اسلام آباد میں قائم ہوگا جس میں چاروں صوبوں سے دو دو جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت سے ایک ایک رکن ہوں گے۔ کمیشن کے چیئرمین کے لیے لازم ہوگا کہ وہ پندرہ برس تک خواتین کی ترقی اور فلاح کے کاموں کا تجربہ رکھتے ہوں۔ جبکہ کمیشن کے اراکین گریڈ اکیس کے افسر کے مساوی حیثیت کے ہوں گے۔

کمیشن کے چیئرمین کا درجہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا اور ان کے یا کمیشن کے اراکین کی تنخواہ اور مراعات حکومت طے کرے گی۔ حکومت ابتدائی طور پر ایک فنڈ قائم کرے گی جس سے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ اس کمیشن کے لیے حکومت ہر سال بجٹ مختص کرے گی لیکن عالمی اداروں سے عطیات بھی حاصل کیے جاسکیں گے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ اس سے ملتا جلتا کمیشن فوجی صدر پرویز مشرف نے سنہ دو ہزار میں ایک آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا تھا جو اب بھی کام کر رہا ہے۔ لیکن اس قانون کے تحت بننے والے کمیشن کے بعد پرویز مشرف کا آرڈیننس منسوخ ہوجائے گا اور موجودہ کمیشن کا عملہ اس نئے کمیشن میں منتقل ہو جائےگا۔

قانون کے مطابق یہ کمیشن ملک بھر میں خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کا ازالہ کرے گا اور تمام وفاقی اور صوبائی محکمے اور ادارے اس کے ساتھ تعاون کے پابند ہوں گے۔ کمیشن کو کسی معاملے میں تحقیق کرنے کی صورت میں سول کورٹ کے برابر اختیارات ہوں گے۔ کمیشن وزیراعظم کو اپنی کارکردگی کے بارے میں سالانہ رپورٹ پیش کرے گا۔

یہ کمیشن تھانوں، جیلوں اور حراستی مراکز میں خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے متعلقہ جگہوں کا دورہ کرنے کا مجاز ہوگا۔ کمیشن کے کورم کے لیے نصف اراکین کی حاضری لازم ہوگی۔

اسی بارے میں