’ریاست اور ذرائع ابلاغ قصوروار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے صحافی مکرم خان عاطف کی ہلاکت کے بعد صحافی تنظیمیں صحافیوں کو قتل کرنے کے واقعات پر ریاست اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔

سنہ دو ہزار پانچ میں شمالی وزیرستان میں قتل کیےگئے صحافی حیات اللہ خان اور پھر سنہ دو ہزار گیارہ میں اسلام آباد میں مارے گئے صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان صحافیوں کو خاص مسائل یا خفیہ معلومات کی رپورٹنگ کرنے پر ہلاک کیا گیا تھا۔

حیات اللہ خان سے پہلے اور سلیم شہزاد کے بعد بھی صحافیوں کو قتل کیا گیا اور بیشتر صحافیوں پر حملے یا انہیں دھمکیاں بھی دی جا چکی ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مکرم خان عاطف کی ہلاکت کے حوالے سے اپنے آپ کو تحریک طالبان کا ترجمان ظاہر کرنے والے احسان اللہ احسان نے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جس بین الاقوامی ادارے کے ساتھ مکرم خان وابستہ تھے وہ طالبان کا موقف نشر نہیں کرتا تھا۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر کے پاکستان میں نمائندہ سینیئر صحافی اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز اپنی زمہ داری نبھائیں جس کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ صحافیوں کو قتل یا ان پر ہونے والے حملوں پر عدالتی کمیشن بھی قائم ہوئے، پارلیمانی کیمٹیوں میں بھی بات چیت ہوئی لیکن صحافیوں کے قتل کا سلسلہ رکا نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

اقبال خٹک نے مذید کہا کہ صحافی سلیم شہزاد کے قتل پر قائم کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے کے چند روز بعد مکرم خان کے قتل کا واقعہ پیش آیا جو اس چیز کی غمازی کرتا ہے کہ سلیم شہزاد جیسے بڑے صحافی کے قتل پر اس واقعہ میں ملوث افراد کی نشاندہی نہیں ہو سکی تو ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے صحافی کے قتل پر کیا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ زرائع ابلاغ کے تمام اداروں کے مالکان اور صحافیوں کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔

پشاور پریس کلب کے صدر سیف الاسلام سیفی نے کہا کہ قتل کی ذمہ داری کوئی بھی لے ان کی نظر میں ریاست ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں صحافت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے جہاں بغیر کسی قصور کے آپ کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور پھر نہ جانے کس وقت کس کو قتل کر دیا جائے کوئی نہیں جانتا۔

دنیا نیوز کے بیورو چیف صفی اللہ محسود کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں صحافت کے حوالے سے صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ بیشتر قبائلی صحافی اپنے علاقے چھوڑ کر شہروں میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مکرم خان کا تعلق اگرچہ مہمند ایجنسی سے تھا اور وہ رپورٹنگ بھی مہمند ایجنسی کے حوالے ہی کرتے تھے لیکن انھوں نے ضلع چارسدہ کے علاقے شبقدر میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

عالمی اداروں کے مطابق پاکستان گزشتہ سال صحافیوں کے حوالے سے دنیا کا چوتھا خطرناک ترین ملک رہا ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والے صحافیوں پر حملے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان حملوں کی نوعیت میں فرق آیا ہے اور نائن الیون کے بعد پاکستان میں صحافت ایک ایسا پیشہ بن چکا ہے جس میں ہر جانب خطرات لاحق رہتے ہیں۔

اسی بارے میں