پی آئی اے کو روزانہ سات کروڑ کا خسارہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان بھر میں اس وقت چھبیس ہوائی اڈے آپریشنل ہیں

پاکستان کے وزیر دفاع چوہدری احمد مختار کا کہنا ہے کہ قومی فضائی کمپنی’پی آئی اے‘ کو یومیہ سات کروڑ روپے کا خسارہ ہو رہا ہے اور نئے جہاز خریدے بنا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے ی بات جمعہ کو سینیٹ میں وقفۂ سوالات کے دوران بتائی۔

بیگم نجمہ حمید کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے ملازمین کو مفت سفر کی محدود سہولیات فراہم کی گئی ہیں جو واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سے پچیس برس تک ملازمت کے دوران ہر پانچ سال کی بنا پر سال میں ایک سے دو بار مفت ٹکٹ اور دو مرتبہ پچاسی سے پچانوے فیصد تک رعایتی ٹکٹ دینے کی پالیسی رائج ہے۔

ان کے مطابق حاضر سروس چیئرمین یا مینیجنگ ڈائریکٹر کو ملک اور دنیا بھر میں اہل خانہ سمیت لامحدود مفت ٹکٹ کی سہولت حاصل ہے جبکہ بورڈ کے اراکین کو چار ملکی اور چار بین الاقوامی ٹکٹ جو ان کے اہل خانہ کے نام قابلِ تبدیل ہیں، کی سہولت حاصل ہے۔

وفاقی وزیر دفاع نے سینیٹ کو مزید بتایا کہ ’پی آئی اے‘ کے ریٹائرڈ چیئرمین/ منیجنگ ڈائریکٹرز کو اہل خانہ سمیت اندرونِ ملک سفر کے لیے آٹھ اور بین الاقوامی سفر کے لیے چار مفت ٹکٹ سالانہ ملتے ہیں جبکہ سابق بورڈ اراکین کو سال میں دو مفت ٹکٹ ملتے ہیں۔

وزیر دفاع نے محمد اسماعیل بلیدی کے سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان بھر میں اس وقت چھبیس ہوائی اڈے آپریشنل ہیں جبکہ مناسب ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے سات ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں۔

ایک ضمنی سوال پر انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پی آئی اے نے کرایوں میں اضافہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کیا ہے۔ ان کے بقول پی آئی اے کے جہاز پرانے ہوچکے ہیں اور نئے جہاز خریدنے تک معاملات بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ’ایک سیون فور سیون بوئنگ ستائیس سال پرانا ہو چکا ہے‘۔

واضح رہے کہ وزیر دفاع پہلے بتا چکے ہیں کہ پی آئی اے میں دیگر فضائی کمپنیوں کی نسبت ملازمین کی تعداد زیادہ ہے اور ان کے بقول دو ہزار ملازمین موجودہ حکومت نے بھرتی کیے ہیں۔

ریلوے کے مسائل

سینیٹ میں جمعہ کو وقفۂ سوالات کے دوران ریلوے کے معاملات بھی زیر بحث آئے اور وفاقی وزیر برائے ریلوے حاجی غلام احمد بلور نے ایوان کو بتایا کہ اگر سنہ دو ہزار دس میں وعدے کے مطابق وزارت خزانہ ریلوے کو مطلوبہ فنڈز فراہم کرتی تو آج حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے چھ ارب دس کروڑ روپے بینکوں سے لے کر دیے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ پانچ سے چھ ماہ میں ریلوے کی حالت بہتر ہوگی۔ لیکن ان کے بقول ہوسکتا ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت نہ ہو اور اس کا کریڈٹ کوئی اور لے لے۔

ریلوے کے وفاقی وزیر نے کہا کہ انجن خراب ہیں وہ خود دھکا تو نہیں لگا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ انجن دیں اور پھر اگر ریلوے کی صورتحال بہتر نہ ہو تو ان کے گلے میں رسہ ڈال کر انہیں گھمائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس آٹھ ہزار تین سو ریلوے انجن ہیں اور پاکستان میں ان کی تعداد ایک سو بارہ ہے۔

تاہم تحریری طور پر پیش کردہ جواب میں انہوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کے پاس کل چار سو چورانوے لوکوموٹِوز تھے جس میں سے ستاون بیکار ہیں، دو سو اکتیس مختلف پرزوں کی وجہ سے غیر مؤثر ہیں جن میں ساٹھ کی مرمت چل رہی ہے جبکہ باقی ایک سو چھیالیس انجن مسافروں اور مال گاڑیوں کے لیے دستیاب ہیں۔

اسی بارے میں