نیٹو رسد، فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی: وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیرِاعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو تیل اور دوسری رسد کی فراہمی بحال کرنے کا معاملہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلایا جائے گا اور پارلیمان اس پر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس فیصلہ کے پابند ہوں گے۔

جمعہ کو لاہور کالج یونیورسٹی برائے خواتین کے کانووکیشن میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ایک فون کال پر امریکہ کے تمام مطالبات مان لیے تھے مگر اب ایک منتخب حکومت ہے اور اس کو اٹھارہ کروڑ عوام کو حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب نیٹو نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پرحملہ کیا تو ان کی حکومت نے نہ صرف ان کی سپلائی بند کر دی بلکہ امریکہ سے شمسی ائیر بیس خالی کروانے کے علاوہ بون کانفرنس میں بھی شرکت نہیں کی۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرے لیکن حکومت کا کام ہے کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرے۔

انہوں نے کہا ’عوام نے ان کی حکومت کو منتخب کیا ہےاور وہ ان کی خدمت کرتے رہیں گے۔حزب مخالف کا اپنا کردار ہے وہ ادا کرتی رہے لیکن جب بھی الیکشن ہو گا ہم ان کو چیلنج کریں گے اوران کا مقابلہ کریں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کرسی صرف اللہ تعالی کی مضبوط ہوتی ہے لیکن وہ جو کام کر رہے ہیں پاکستان کے آئین کے مطابق ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر ہر ادارہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرے گا تو پھر کسی قسم کا تصادم نہیں ہوگا۔

ایک صحافی نے جب وزیراعظم سے سوال کیا کہ کل عدالت میں پیش ہونے پر انہوں نے خوف محسوس کیا یا فخر ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اوران کا عدالت میں جانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں۔

ایک سوال میں جب ان کی توجہ اپوزیشن کے اس بیان کی طرف دلائی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ عوام کو صدر اور وزیراعظم کے استشنیٰ سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ انہیں ساٹھ کروڑ ڈالر سے غرض ہے جو سوئس بینکوں میں پڑا ہوا ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت سوئس کیسز عدالتوں میں ہیں اور کیونکہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اس لیے عدالت جو فیصلہ کرے گئی وہ اس پر عمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے مسائل سے باخبر ہیں اور وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ مسئلے حل ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آمریت کی جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے کہا کہ وہ مہنگائی ختم کریں گے، کرپشن ختم کریں گے لیکن دس دس سال اقتدار میں رہنے کے باوجود وہ یہ مسائل ختم نہیں کر سکے۔

اسی بارے میں