ممبئی حملوں کی تحقیقات، پاکستانی وکلاء بھارت جائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ممبئی حملوں کے بعد زندہ پکڑے جانے والے واحد ملزم پاکستانی شہری اجمل قصاب کو خصوصی عدالت سزائے موت سنا چکی ہے

پاکستانی حکام کے مطابق ممبئی میں نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں ہونے والے حملوں سے متعلق شواہد کی جانچ پڑتال اور گواہوں پر جرح کے لیے پاکستان کا قانونی وفد اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں بھارت جائے گا جس میں استغاثہ کے علاوہ ملزمان کے وکلاء بھی شامل ہوں گے۔

یہ وکلاء ممبئی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر بنائے گئے اس ایک رکنی کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے جو میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پر مشتمل ہے۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے الزام میں پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سابق آپریشنل چیف کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی اور کمانڈر ضرار شاہ سمیت سات ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں جہاں انسداد دہشت گردی کی عدالت ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ممبئی حملوں سے شواہد کی جانچ پڑتال اورگواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے پاکستان کا ایک عدالتی کمیشن فروری کے پہلے ہفتے میں بھارت کا دورہ کرے گا۔

تاہم پاکستان میں ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف مقدمے میں استغاثہ کے وکیل چوہدری اظہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ استغاثہ کے اہلکار، ایک تفتیشی افسر اور پانچ ملزمان کے وکلاء ممبئی جائیں گے اور اس کے علاوہ اس وفد میں ایک عدالت کا اہلکار ہوگا جو اپنے ساتھ عدالتی ریکارڈ لے کر جائے گا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

(وکیلِ استغاثہ چوہدری اظہر کی بی بی سی سے خصوصی بات چیت سنیے)

انھوں نے کہا کہ استغاثہ کے وکیل شہادتیں ریکارڈ کریں گے جبکہ ملزمان کے وکیل ان پر جرح کریں گے اور اس کے لیے ہندوستان کی حکومت نے ممبئی میں ایک عدالتی کمیشن مقرر کیا ہے۔

چوہدری اظہر نے کہا کہ ہندوستان کی حکومت نے انھیں چار گواہان تک ہی رسائی دی ہے جن میں ممبئی حملوں کے بعد زندہ پکڑے جانے والے ملزم اجمل قصاب کا اقبالی بیان ریکارڈ کرنے والے سپیشل میٹروپولیٹن جوڈیشل مجسٹریٹ، چیف تفتیشی افسر اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر شامل ہیں۔

چوہدری اظہر نے ممبئی میں مقرر کیے جانے والے کمیشن کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے سکیورٹی کی وجوہات پرگواہان پاکستان بھیجنے سے انکار کیا تھا جس کے بعد انھوں نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 508 کی ذیلی دفعہ 503 کے تحت راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دی تھی کہ ممبئی میں کمیشن مقرر کیا جائے جو ان گواہان کی شہادتیں ریکارڈ کرے اور یہاں سے وکیل صفائی جائیں اور ان پر جرح کریں۔

انھوں نے کہا کہ دلائل سننے اور ہندوستان کی جانب سے آمادگی کے اظہار کے بعد عدالت نے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا اور بھارتی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے عدالت پر عمل کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے میٹروپولینٹن مجسڑیت پر مشتمل ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے۔

انھوں نے ممبئی میں مقرر کیے جانے والے کمیشن کو قانون کے عین مطابق قرار دیا، ’دولت مشترکہ کے ممالک کا ایک معاہدہ ہے جس کے تحت قانون سازی ہوئی ہے اور جو ضابطۂ فوجداری کے دفعہ 508 ہے اس کے تحت اگر دولت مشترکہ کے کسی ملک کے گواہان دوسرے ملک میں نہیں جا سکتے تو ان کی شہادتیں ریکارڈ کرنے کے لیے ان کے اپنے ملک میں ہی عدالتی کمیشن مقرر ہو سکتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ بھارت اور امریکہ دونوں نے ممبئی حملوں کا الزام پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر لگایا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایک ہی تنظیم کے دو نام ہیں۔

اس سلسلے میں امریکہ نے مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری داؤد گیلانی عرف ڈیوڈ ہیڈلے کو گرفتار بھی کیا تھا۔ اس حملے میں زندہ پکڑے جانے والے واحد ملزم پاکستانی شہری اجمل قصاب کو ممبئی کی ایک خصوصی عدالت موت کی سزا سنا چکی ہے۔

اسی بارے میں