’انتخابی فہرستوں کی تیاری تیزی سے جاری‘

الیکشن کمیشن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو موجودہ فہرستوں پر کوئی انتخاب نہ کروانے کو کہا ہے

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے جمعہ کو پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کو بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کی دی گئی تاریخ تک کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرستیں تیار کرنے کے لیے نادرا میں ڈبل شفٹ میں کام ہو رہا ہے اور اضافی سٹاف بھی بھرتی کیا گیا ہے۔

یہ بات انہوں نے وقفۂ سوالات کے دوارن کہی اور بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں نادرا کے چار سو اٹھانوے دفاتر قائم کیے گئے ہیں جس میں چار ہزار دو سو چھہتر ملازمین بھرتی کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں نئی ووٹر فہرستوں میں آٹھ کروڑ چون لاکھ ووٹرز کا اندراج ہوا ہے اور نادرا حکام کے مطابق اس میں ساڑھے چھتیس لاکھ ایسے نئے ووٹر شامل ہیں جن کے نام سنہ دو ہزار سات کی فہرست میں درج نہیں تھے۔

سنہ دو ہزار سات میں تیار کردہ ووٹر فہرست میں آٹھ کروڑ بیس لاکھ ووٹرز کے نام درج تھے اور اس میں سے نادرا کے مطابق تین کروڑ بہتر لاکھ ایسے ووٹرز کے نام تھے جن کا نادرا کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے متنازع ووٹر فہرست کے بارے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ تیئیس فروری تک نئی انتخابی فہرستیں مکمل کریں اور اس وقت تک کوئی ضمنی انتخابات نہ کرائے جائیں۔

اس عدالتی حکم کے بعد شاہ محمود قریشی، مخدوم جاوید ہاشمی، سردار آصف احمد علی، جہانگیر ترین، نواب محمد خان ہوتی کے قومی اسمبلی سے مستعفی ہوکر تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد ان نشستوں پر ضمنی انتخاب کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے تو کہہ دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ووٹر فہرست تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن الیکشن کمیشن یہ واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ قانونی تقاضوں کے پیش نظر دی گئی تاریخ تک حتمی ووٹر فہرست بنانا ممکن نہیں۔

جبکہ نادرا بھی یہ کہہ چکا ہے کہ آٹھ کروڑ چون لاکھ افراد کا درست ڈیٹا سنبھالنا آسان کام نہیں اور وہ اتنی بڑی تعداد میں فہرستوں کے پرنٹ اتنی جلدی فراہم نہیں کرسکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نادرا یہ کام عجلت میں نہیں کرنا چاہتا تاکہ کوئی غلطی نہ رہ جائے۔

واضح رہے کہ ’نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی’ جسے ‘نادرا’ کہا جاتا ہے، پاکستان میں عالمی معیار کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے کا مجاز ادارہ ہے اور پاکستانی شہریوں کے ریکارڈ کے حوالے سے ایک ‘ڈیٹا بینک‘ ہے۔

وزارت داخلہ سے منسلک اس ادارے کو اب حکومت کوئی بجٹ فراہم نہیں کرتی اور یہ ادارہ اپنے اخراجات ملک میں شناختی کارڈز اور پاسپورٹس فیس اور دنیا کے مختلف ممالک کو اپنی خدمات فراہم کر کے پورا کرتا ہے۔

اسی بارے میں