دل کے مریضوں کی ہلاکت کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان میں صحتِ عامہ کی سہولیات قابلِ رشک نہیں ہیں

حکومتِ پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں عارضۂ قلب کا علاج کروانے والے تئیس مریضوں کی مبینہ طور پر ادویات کے رد عمل کے بعد ہلاکت کے واقعات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

محکمۂ صحت پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام ہلاکتیں گزشتہ بیس دنوں میں ہوئی ہیں جبکہ ایک سو سے زائد ایسے مریض ہسپتالوں میں داخل کرائے گئے جن کے جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔

حکومت پنجاب نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے پندرہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرام کو حکومتی تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی آئندہ اڑتالیس گھنٹوں تک کسی نتیجے پر پہنچ جائےگی۔

بی بی سی اردو کے عباد الحق سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرام نے بتایا کہ جن افراد کو جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنے کی علامت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا وہ دل کے امراض کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پندرہ دسمبر سے یکم جنوری تک ان مریضوں کو جو ادویات استعمال کرائی گئیں ان سے مریضوں کو ری ایکشن ہوا۔

پروفیسر جاوید اکرام کا کہناہے کہ ’ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کونسی دوائی کا ری ایکشن ہوا ہے تاہم چار قسم کی مختلف ادویات کو فوری طور پر استعمال کرنے سے روک دیا گیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ دوائی کے ری ایکشن سے سب سے زیادہ ہلاکتیں میو ہسپتال میں ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر جاوید اکرام کا کہنا ہے کہ دوائی کے ری ایکشن کی وجہ سے مریضوں کی ہڈی کا گودا بننا بند ہوگیا ، جسم پر دھبے پڑ گئے اور ان کے وائٹ سیل اور پلیٹ لٹس تیزی سے کم ہوگئے۔