سری لنکا، غیر ملکی مبلغوں کو ملک چھوڑنے کا حکم

سری لنکا مسلم
Image caption سری لنکا میں مسلمانوں نے بھی تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے

اطلاعات کے مطابق سری لنکا نے ویزہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک سو اکسٹھ غیر ملکی مبلغوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

ایک سینیئر امیگریشن آفیسر سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مبلغوں کو مساجد میں تبلیغ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ یہ سیاحتی ویزہ پر ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی مقامی مسلمانوں نے بھی اس بات کی شکایت کی ہے کہ یہ مبلغ اعتدال پسند اسلام کا پرچار نہیں کرتے۔

بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان، مالدیپ اور عرب ممالک سے آئے ہوئے ان مبلغوں کو اب اکتیس جنوری تک ملک چھوڑنا ہو گا۔

سری لنکا کے امیگریشن کے سربراہ چولنندا پریرا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’انہوں نے امیگریشن کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایک سیاحتی ویزہ کا مطلب چھٹیاں گزارنا یا دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنا ہے، اسلام کی تبلیغ کرنا نہیں۔‘

پریرا نے کہا کہ اس گروپ کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔

ایک شخص نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے مبلغوں کے گروہ عبادت گاہوں میں جاتے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے عقیدے کو زیادہ وقت دیں۔ ’یہ کہنا ہے کہ وہ شدت پسند ہیں مضحکہ خیز ہے۔‘

سری لنکا میں مسلمانوں نے اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملک سے نکالے جانے کے حکم پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خیال ہے کہ وہ پیر کو حکام سے مل کر اس میں تاخیر لانے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں