ٹی وی چینل کا اینٹی ڈیٹنگ سکواڈ

Image caption اس قسم کی اخلاقی پولیسنگ پر احتجاج کرتے ہیں: عورت فاؤنڈیشن

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے نجی ٹی وی چینل کے ایک مارننگ شو پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور عوام کی ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دیا ہے۔

مایا خان کی میزبانی میں ہونے والے اس مارننگ شو کے حالیہ پروگرام میں نصف درجن خواتین کے ساتھ مایا خان کراچی کے ایک پارک میں صبح سویرے پہنچ جاتی ہیں، جہاں انہیں ایسے نوجوان جوڑوں کی تلاش ہوتی ہے جو ڈیٹ پر آئے ہوئے ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ اس لائیو شو میں ان کی ٹیم کو جوڑوں کا تعاقب کرتے ہوئے دکھا گیا ہے جس میں لڑکیوں کو روک کر زبردستی بات کرنے کی بھی کوشش کی گئی، لڑکیوں سے بار بار یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا آپ کے والدین کو یہ پتہ ہے آپ یہاں آئی ہیں، اپنے والدین کو دھوکہ نہ دیں۔

ایک جوڑے نے ٹیم کو بتایا کہ وہ منگیتر ہیں اور وہ ان سے جانے کی درخواست کرتا ہے۔ چھاپہ مار ٹیم میں شامل افراد اپنے اپنے تبصرے کرتے ہیں جس میں اس جوڑے کے دعوے کو مسترد کیا جاتا ہے۔ اس دوران یہ بھی فخریہ طور بتایا جاتا ہے کہ کراچی کے پارکوں میں آج کوئی ڈیٹ نہیں ہورہی ہوگی، ان کے پروگرام کے باعث سارے پارک خالی ہوچکے ہوں گے۔

حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر مہناز رحمان کا کہنا ہے اس پروگرام کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسے مجرموں کو حراست میں لیا ہے جنہوں نے ناقابل معافی گناہ کیے ہوں۔

’صبح سویرا کی ٹیم کو چھاپے کا کس نے حق دیا کہ وہ لوگوں کی ذاتی زندگی کے بارے میں یہ سوالات کریں، انہیں تحقیقات اور فیصلے کا حق ہے تو پھر پولیس اور عدلیہ کی کیا ضرورت ہے، میڈیا کی اس پہرہ داری اور طالبان کے طرز عمل میں کیا فرق ہے۔‘

مہناز رحمان کے مطابق ’صبح سویرا کا چھاپے نے برقعہ کو جسم فروشی کی علامت قرار دیا ہے اس وقت سنسر بورڈ اس قسم کے پروگراموں کو کیوں سنسر نہیں کرتا۔‘

مہناز رحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی معمول کی بات ہے اور اس قسم کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی کوئی جرات نہیں کرتا ہے۔

’سویرا کا چھاپہ‘ کے خلاف آن لائن پٹیشن بھی جاری کی گئی ہے، جس میں اس عمل کو لال مسجد کی پہرہ داری کے متراداف قرار دیا گیا ہے، جس میں بعض طالبات نے ایک مساج سینٹر اور گھر پر دھاوا بول دیا تھا۔

پٹیشن میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس قسم کی اخلاقی پولیسنگ پر احتجاج کرتے ہیں اور اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس قسم کے پروگرام آئین کے تحت شہریوں کو حاصل احترام کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’سویرا کا چھاپہ‘ کے خلاف آن لائن پٹیشن بھی جاری کی گئی ہے: مہناز رحمان

اس پٹیشن کی حامی نبیلہ کاؤسجی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے کہا ہے کہ وہ خاتون جو اس قسم کے رویوں کو فروغ دے رہی ہے مجرم ہے۔ فرحین حسین نامی ایک اور پٹیشنر کے مطابق مایا خان اور ان کے ہمدردوں پر مشتمل غیرت بریگیڈ نے طالبان سٹائل کی وزارت قائم کرلی ہے۔

اس مارننگ شو کے سینئر پروڈیوسر سہیل زیدی نے اس متنازع پروگرام کا بھرپور دفاع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات پر کوئی ذاتی عمل نہیں ہوتا۔ جن لوگوں نے اس پروگرام میں جواب دینا چاہا انہوں نے دیا اور جنہوں نے بھاگنا چاہا وہ بھاگ گئے۔’ہم نے کسی کو زبردستی گُدی سے تو نہیں پکڑا، جو وہاں پر ہو رہا ہے کیا وہ میڈیا پر نہیں دکھا سکتے۔‘

حقوق نسواں اور سول سوسائٹی کے اعتراضات کو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا جواب تیار کرلیا ہے، اس معاملے کو دیکھا جارہا ہے۔

سول سوسائٹی نے اس پروگرام کے پروڈیوسر اور میزبان مایا خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور ٹی وی چینل کی انتظامیہ سے اس پروگرام کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں