’جمہوریت فوج کے ہاتھوں میں جاگیر‘

Image caption تنظیم کے مطابق پاکستانی حکومت انسانی حقوق کی خۂافورزی کرنے والوں کا احتساب نہیں کر پائی ہے

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی امریکی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی جمہوری حکومت فوجی دباؤ میں رہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کرنے میں ناکام رہی ہے۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار گیارہ کے دوران فرقہ وارانہ اور لسانی نتظیموں کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگز اور صحافیوں کے قتل جیسے واقعات عام بات رہی ہے۔

رپورٹ کے اجراء کے موقع پر ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر برائے ایشیا بریڈ ایڈمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئٹہ سے لیکر کراچی تک جمہوریت فوج کے ہاتھوں چلائي جانے والی ایک جاگیر رہی ہے۔

نیویارک میں صدر دفتر سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال طالبان اور ان سے منسلک گروپوں کی جانب سے بازار اور مذہبی جلوسوں پر خودکش حملوں کی وجہ سے امن امان کی صورتحال ڈرامائي طور پر مخدوش رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگز میں ڈرامائي طور پر اضافہ ہوا ہے جبکہ کراچی میں سیاسی تشدد میں آٹھ سو افراد ہلا ک ہوئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر برائے ایشیا بریڈ ایڈمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ برس انسانی حقوق کی صورتحال تباہ کن رہی ہے۔ بموں سے سینکڑوں شہری ہلاک ہوئے، مذہبی ہم آہنگي کے لیے کام کرنے والوں کو قتل کیا گیا اور فوج نے جمہوری اداروں کو اپنے زیر اثر رکھا۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور دیگر اقیلتی گروپوں کے خلاف مذہب و قانون کی آڑ میں امتیازی سلوک انتہائي عروج پر رہا ہے اور اظہار رائے اور عقیدے کی آزادیاں شدید حملوں کا شکار رہیں رہیں۔ اس کے مطابق مذہبی انتہا پسند گروپوں نے اقلیتوں کو دہشت زدہ کرنےکے لیے توہین رسالت کے تحت مقدموں کے اندراج میں تیزی کی ہے۔

رپورٹ میں مقتول صحافی سلیم شہزاد کے معاملے میں پرزور الفاظ میں کہا گیا کہ جب تک سلیم شہزاد کے قاتلوں کی نشاندہی نہیں ہوجاتی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک پاکستان میں صحافی نہ صرف خوف کے ماحول میں اپنا کام کریں گے بلکہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہر کراچي میں سیاسی پارٹیوں کے حمایت یافتہ گروہوں کے ہاتھوں تقریباً آٹھ سو افراد کو ٹارگٹ بنا کر قتل کیا گيا ہے۔

اس رپورٹ میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی موجودہ صورتحال، نیٹو حملے میں چھبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں اور پاکستان کی جانب سے نیٹو کی رسد منقطع کردینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے صوبہ خیبر پختونخواہ میں امریکی ڈرون طیاروں نے پچہتر فضائی ڈرون حملے کیے۔ اس میں بہت سی شہریوں کی اموات کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں لیکن علاقے میں رسائي نہ ہونے کی وجہ سےہیومن رائٹس وآچ ان ہلاکتوں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکی۔

اسی بارے میں