صحافت سے سیاست کی راہ پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علی قاضی نے باضابطہ تبدیلی کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا

بھارت میں کرپشن اور بدانتظامی کے موضوع پر بنائی گئی فلم نائک کے ایک سین میں پریش راول انیل کپور سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ ’سیاست ایک گٹر ہے، یہ کہتے تو سب ہیں مگر کوئی اتر کر اسے صاف کرنے کو تیار نہیں۔‘

یہ سننے کے بعد انیل کپور جو ایک نیوز چینل کا رپورٹر ہے سیاست کے میدان میں اتر پڑتا ہے، سندھ کے صحافی علی قاضی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی معلوم ہوتی ہے۔

تیونس سے اٹھنے والی عرب دنیا کی بیداری کی تحریک کے بعد پاکستان میں بھی تبدیلی کا موضوع زیر بحث آیا مگر علی قاضی پچھلے کئی برسوں سے سندھ میں تبدیلی کے موضوع پر لکھتے اور لوگوں کو بار بار بھوتار کے کلچر ( وڈیرانہ نظام) سے نجات حاصل کرنے کا درس دیتے رہے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کے دورۂ افغانستان کے دوران جب سندھی ٹوپی پہننے پر میڈیا کے ایک حلقے نے تنقید کی تو علی قاضی نے سندھی کلچر ڈے منانے کا اعلان کیا جس کی حمایت صوبائی حکومت نے بھی کی۔ سندھ کے تمام شہروں میں ہزاروں لوگ اجرک اور ٹوپی پہن کے سڑکوں پر نکل آئے۔

پانی کی قلت کے دنوں میں انہوں نے دریا کا دن منانے کی اپیل کی جس کو بہت پذیرائی ملی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے دریا پر پھول نچھاور کیے۔

لوگوں کو متحرک کرنے کے ان دو کامیاب تجربوں کے بعد علی قاضی نے باضابطہ تبدیلی کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا، تبدیلی کی خواہش انہیں نیوز روم سے لوگوں کے درمیان لے آئی۔ پچھلے ایک ماہ میں انہوں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں ایک سو ستاسی عوامی اجتماعات کیے اور لوگوں کو بائیس جنوری کو صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کے احاطے میں جمع ہونے کی دعوت دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پچھلے ایک ماہ میں علی قاضی نے سندھ کے مختلف علاقوں میں ایک سو ستاسی عوامی اجتماعات کیے

شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کے احاطے میں اتوار کو ہونے والا یہ ایک منفرد اور منظم مجمع تھا، جس میں تقریباً ہر ضلع سے شاعروں، ادیبوں، صحافیوں اور این جی اوز سے وابستہ لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔

علی قاضی کی تبدیلی کی اس تحریک میں سابق ایم این اے ماروی میمن، منصف اور دانشور جامی چانڈیو بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ بھٹ شاہ میں تبدیلی کی اس تحریک کے سیاسی جماعت میں تبدیل ہونے کا اعلان متوقع تھا مگر ایسا فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔

سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے اجتماعات کے مقابلے میں بھٹ شاہ کے اس اجتماع میں لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی، جن میں سے ہر ایک کے پاس کرپشن، بد انتظامی اور سندھ کے وسائل پر اس کا حق نہ ہونے کی شکایت تھی۔

سانگھڑ کے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کے بعد سندھ کے پاس ایسی کوئی قیادت نہیں ہے جس پر اعتبار کیا جاسکے اس لیے لوگوں میں تبدیلی اور قیادت کے لیے بے چینی موجود ہے۔

صحافی سے سیاستدان بننے والے علی قاضی کا کہنا ہے کہ خراب حکمرانی، ٹوٹا پھوٹا انفرا اسٹرکچر، ڈاکو فیکٹر اور بھتہ خوری کے ساتھ بدامنی کی بدترین صورتحال، صحت و تعلیم کی سہولیات کا فقدان یہاں کے لوگوں کا نصیب نہیں ہے۔ وڈیروں کے ایک ٹولے کی حکومت جاتی ہے تو دوسرے ٹولے کی حکومت آجاتی ہے، لوگوں کو ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ اور سوچ تبدیل کرنی پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وڈیروں کے ایک ٹولے کی حکومت جاتی ہے تو دوسرے ٹولے کی حکومت آجاتی ہے: علی قاضی

قوم پرست جماعتیں کئی عشروں سے سندھ میں متحرک ہیں، مگر انہیں آج تک عام انتخابات میں ایک نشست پر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، ان جماعتوں کے اتحاد بننے اور ٹوٹنے کی بھی ایک لمبی تاریخ ہے۔ اس وقت بھی قوم پرست جماعتیں سندھ پروگریسیو الائنس کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہیں اور آنے والے انتخابات میں مشترکہ امیدوار لانے کی خواہش مند ہیں۔

تبدیلی پسند گروپ کو قوم پرستوں اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں کی مخالفت کا سامنا ہے، ایم این اے ماروی میمن کی موجودگی کی وجہ سے پیپلز پارٹی تبدیلی پسندوں کے اس گروپ کو کبھی پرویز مشرف کی بی ٹیم اور کبھی اسٹبلشمنٹ کی ایک اور کوشش قرار دیتی ہے۔

علی قاضی کے اخبار میں ان کی سرگرمیوں کی خبروں کے ساتھ مخالف جماعتوں کا موقف بھی شایع ہو رہا ہے، جس سے یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ وہ سیاست اور صحافت کو الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے صحافتی مداح سیاسی کردار پر تنقید کرتے ہیں ان کی رائے ہے کہ سندھ میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ان کی صحافت اور ان کے ادارے کا اہم کردار ہے، جسے برقرار رہنا چاہیے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور کے اختتام پر سندھ میں بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ کئی سیاسی کارکنوں نے صحافت کا رخ اختیار کیا تھا، جس سے صحافت میں بنیادی تبدیلیاں آئیں، جس نے سندھ کے تناظر میں حکمران جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونا شروع کیا۔

علی قاضی اور ان کے تبدیلی پسند ساتھی ابھی تک کوئی روڈ میپ نہیں دے سکے ہیں، مگر ان کے تبدیلی کے نعرے پر ہی لوگ بھٹ شاھ پہنچ گئے، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علی قاضی عوام اور عوام علی قاضی کو آزما رہے ہیں۔

اسی بارے میں