مفت ادویات، مرنے والوں کی تعداد ستر ہو گئی

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مفت ادویات لینے والے تین سو پچاس مریض لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیراعلاج ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قائم ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سرکاری طور پر ملنے والی مفت ادویہ کے ری ایکشن سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔

حکام کے مطابق غیر معیاری ادویات کے استعمال سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستر ہوگئی ہے۔

ُادھر مقامی عدالت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو ادویات فراہم کرنے والی تین ادویات ساز کمپنیوں کے مالکان کو تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا ہے۔ مالکان کو منگل کی رات حراست میں لیا گیا۔

سرکاری حکام کے مطابق اب تک تین سو پچاس کے قریب ایسے مریض لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ملنے والی مفت ادویہ کا ری ایکشن ہوا ہے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پنجاب حکومت نے ان پانچ قسم کی ادویات کے استعمال پر فوری طور پر پابندی لگا دی ہے جو عارضۂ قلب کے مریضوں کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈریالوجی میں فراہم کی جا رہی ہیں۔

پنجاب حکومت نے ان ادویات کی جانچ کے لیے ان کے نمونے منگل کے روز بیرون ملک بھیج دیے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخالف نے بھی غیر معیاری ادویات کی وجہ ہلاکتوں پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے مستعفی ہو جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مریضوں کے عزیزوں نے غیر معیاری ادویات کی فراہمی کے خلاف ہسپتال کے سامنےاحتجاج بھی کیا ہے

اس سے پہلے ایف آئی اے کی طرف سے عدالت کو بتایا کہ حراست میں لیے گئے تینوں مالکان کی کپمنی نے نے جو ادویات ہسپتال میں فراہم کی ہیں ان پر دوائی کی تیاری کی تاریخ اور استعمال کی مدت درج نہیں ہے اور غیر معیاری ادویات کی وجہ لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

ایف آئی اے نے عدالت سے آٹھ روز کا جسمانی ریمانڈ مانگا تاہم عدالت نے انہیں تفتش کے لیے تین روز کا ریمانڈ دیا۔

ادویات ساز کمپنیوں کی تنظیم کے عہدیداروں نے حتمی رپورٹ آنے سے قبل ہی ایک فیکڑی کو سیل کرنے کی مذمت کی اور اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے عہدیدار ڈاکٹر ریاض احمد نے قانونی چارہ جوئی کا راستے اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں