مشرف کو واپسی پر گرفتار کیا جائے: قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے پیر کو سابق صدر پرویز مشرف کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے اور بغاوت کا مقدمہ چلانے کی قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد سینیٹر رضا ربانی نے تمام جماعتوں کی جانب سے ایوان میں پیش کی۔ سینیٹ کے کسی بھی رکن نے اس قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف نے دو بار آئین معطل کیا اور انہوں نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور اکبر بگٹی کے قتل میں معاونت کی۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے عوام کے خلاف ریاستی قوت کا استعمال کیا۔

سینیٹ سے منظور ہونی والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف نے اپنے دورِ حکومت میں غیر ممالک سے تحریری معاہدے کر کے قومی سلامتی کو نقصان بھی پہنچایا۔

واضح رہے کہ صدر مشرف نے کراچی میں کیے جانے والے جلسے میں اعلان کیا تھا کہ وہ ستائیس اور تیس جنوری کے درمیان کسی دن بھی پاکستان واپس آ جائیں گے۔

تاہم اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ پچیس جنوری کو ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا مشاورتی اجلاس ہو گا جس میں ان کی وطن واپسی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں