وزیر اعظم کی فوج پر بیان کی وضاحت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک چینی آن لائن خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے سپریم کورٹ میں بیان داخل کرنے کے حوالے سے جو بیان دیا تھا اس کا ایک مخصوص پس منظر تھا۔

ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اسلام آباد میں چکلالہ کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ’ میں نے جب چین کے میڈیا کے ساتھ بات کی تھی اس وقت بہت سے واقعات رونما ہو رہے تھے، بہت سارے عہدیدار تھے اور بہت سے مسائل ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوگئے تھے۔ میں نے یہ بات اسی تناظر میں کی تھی۔‘

مبصرین کے مطابق وزیر اعظم اپنے اُس بیان سے بظاہر پیچھے ہٹ گئے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے مـجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر متنازع میمو کے بارے میں دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں اپنے جوابات داخل کرائے تھے۔

وزیر اعظم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا:’بعد میں جب ہمیں یہ پتہ چلا کہ کسی اہلکار نے غلط فہمیاں پیدا کیں تو میں نے اس کے خلاف کارروائی کی۔غیرآئینی اور قانون کے منافی ریمارکس آرمی چیف اور ڈی جی آیس ایس آئی کے متعلق نہیں ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کےوزیر اعظم نے رواں ماہ کے اوائل میں چین کے ایک اخبار پیپلز ڈیلی آن لائن ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکڑ جنرل لیفٹینٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی طرف سے متنازع میمو کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں داخل کرائے گیے جوابات کے لیے مجاز اتھارٹی کی منظوری نہیں لی گئی تھی جو قواعد و ضوابط کے تحت ضروری ہے۔

اسی بارے میں