کراچی میں تین وکلا قتل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں تین وکلا ہلاک ہوگئے ہیں، سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن نے اس واقعے کے خلاف جمعرات کو ملک بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

یہ واقعہ پاکستان چوک کے قریب پیش آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔ انہوں نے کار پر دونوں اطراف سے فائرنگ کی جس میں چاروں وکلا زخمی ہوگئے۔

سول ہپستال کے میڈیکل لیگو افسر آفتاب چنڑ نے بتایا کہ کفیل جعفری، شکیل جعفری اور بدر منیر کی لاشیں لائی گئی ہیں، جبکہ ایک اور شخص بابر زخمی ہیں۔

جائے وقوع پر موجود ایس پی نعیم شیخ کا کہنا ہے کہ یہ وکلا سٹی کورٹ سے گھر جانے کے لیے نکلے تھے۔ حملہ آوروں نے ان کی خیبر کار کو پہلے روکا اس کے بعد فائرنگ کی، جس میں تین وکلا ہلاک ہوگئے۔

ایک چشم دید گواہ اعجاز احمد نے بتایا کہ وہ گاڑی پارک کرکے نکل رہے تھے تو فائرنگ کی آواز آئی۔ انہوں نے دیکھا کہ سڑک پر سناٹا ہے اور خیبر کار رک ہوئی ہے۔ ’دو موٹر سائیکلوں پر پانچ لوگ سوار تھے جنہوں نے دونوں طرف سے گولیاں برسائیں۔ حملہ آوروں کے فرار ہونے کے بعد ہم جب پہنچے تو دو وکیل ہلاک ہوچکے تھے اور زخمیوں میں سے ایک زخمی وکیل موبائیل ٹیلیفون پر پولیس ہیلپ لائین اور ایمبولینس سروس سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، بعد میں خود ہی گاڑی چلاتا ہوا ہسپتال کی طرف روانہ ہوگیا۔‘

چشم دید گواہ اعجاز احمد نے بتایا کہ قریب ہی پولیس موبائل کے ساتھ ایک اے ایس آئی موجود تھا، جس نے ہوائی فائرنگ کی لیکن ملزمان کو نشانہ نہیں بنایا، ایس پی نعیم شیخ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جائے گی کہ اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔‘

شہر میں گزشتہ چند روز سے فرقہ وارانہ کشیدگی موجودہ ہے۔ گزشتہ روز لیاری کے علاقے میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دو کارکنوں محمد علی اور محمد نعمان کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سے محمد علی پیرا لیگل تھے۔ ان ہلاکتوں کے خلاف کالعدم سپاہ صحابہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

ایس پی نعیم شیخ کا کہنا تھا کہ مقتول وکلا کا ایک خاص فرقے سے تعلق تھا، اس رخ سے بھی تفتیش کی جائےگی۔ اس کے علاوہ ان کے پیشے کی وجہ سے تو نشانہ نہیں بنایا گیا اس حوالے سے بھی تحقیقات ہوگی۔