مغوی اہلکار کی بازیابی کے لیےگرفتاریاں

فائل فوٹو، سیلاب متاثرین، سندھ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسٹر ٹام کینیا کی شہریت رکھتے ہیں اور ان کا تعلق کیئر انٹرنیشنل سے ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پولیس نے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے کام کرنے والے غیر ملکی ادارے کے مغوی اہلکار اور ان کے ڈرائیور کی بازیابی کے لیے گرفتاریاں کی ہیں۔

ڈی ایس پی غلام علی بروہی نے ان گرفتاریوں کی تعداد اور تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو کچھ کامیابی ضرور ملی ہیں۔

پولیس نے تین روز گزرنے کے باوجود مسٹر ٹام اور ان کے ڈرائیور گدا حسین کے اغوا کا مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب کیئر انٹر نیشنل کی ترجمان سعدیہ بندگارتھ کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے نے اس واقعے میں ڈرائیور گدا حسین پر کوئی شبہ ظاہر نہیں کیا ہے، یہ دونوں خاندانوں کے لیے ایک مشکل گھڑی ہے جس میں ادارہ ان کے ساتھ ہے۔

اس ماہ پاکستان میں غیر ملکی ادارے کے ملازمین کے اغوا کا یہ تیسرا واقعہ ہے، ان واقعات میں مجموعی طور پر پانچ افراد اغوا ہو چکے ہیں۔

حالیہ واقعہ منگل کو کراچی سے تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر دور قومی شاہراہ پر پیش آیا، نوشہرو فیروز پولیس کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹام اپنے ڈرائیور گدا حسین میمن کے ساتھ صبح آٹھ بجے سکھر سے دادو کے لیے روانہ ہوئے تھے ایک گھنٹے کے بعد دونوں کے موبائل ٹیلیفون سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

پولیس کو مسٹر ٹام کی گاڑی بھریا شہر میں واقع زرعی ترقیاتی بینک کی پارکنگ ایریا سے ملی ہے۔

مسٹر ٹام کینیا کی شہریت رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق کیئر انٹرنیشنل سے ہے، جو دو ہزار دس کے سیلاب کے متاثرین کی بحالی کے لیے سکھر، لاڑکانہ اور دادو میں کام کر رہی ہے۔

دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد کئی غیر ملکی فلاحی ادارے سندھ کے متاثرہ اضلاع میں کام کر رہے ہیں، یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے جنوبی پنجاب ضلع ملتان میں بین الاقوامی فلاحی تنظیم کے لیے کام کرنے والے جرمن شہری مسٹر برنڈ اور اٹلی کے شہری مسٹر جیوانی کو ایک گیسٹ ہاؤس سے اغواء کیاگیا تھا۔

اس واقعے سے پہلے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے عالمی ریڈ کراس کے برطانوی اہلکار خلیل ڈیل کو اغواء کر لیا تھا، جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ اس واردات کے بعد ادارے نے اپنا آپریشن معطل کر دیا ہے۔

اسی بارے میں