کرم ایجنسی: چھ اہلکاروں سمیت انیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے قبائلی علاقے وسطی کرم ایجنسی میں حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں چھ اہلکار اور تیرہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

کرم ایجنسی سے سیکیورٹی فورسز کے اعلی افسر نے بتایا ہے کہ جوگی کے علاقے میں شدت پسندوں کے مضبوط ٹھکانے ہیں جن کے خلاف آج صبح سویرے پیش قدمی کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے ساتھ مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھاری توخانے کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں چھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں شدت پسندوں کا بھاری نقصان ہوا ہے اور اب تک کی اطلاع کے مطابق تیرہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں ۔ جھڑپوں میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

ایک اطلاع یہ ہے کہ گزشتہ روز شدت پسندوں نے اس علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کے طور پر علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آج صبح ہونے والے آپریشن میں چار اہلکار ہلاک اور تیرہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

وسطی کرم ایجنسی کے علاقے ماموزئی اور شموزئی میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن دو ماہ پہلے شروع کیا گیا تھا جس میں اطلاعات کے مطابق اب تک ساٹھ کے لگ بھگ شدت پسند اور ڈیڑھ درجن سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عام شہریوں کا بھی جانی نقصان ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو ماہ پہلے شروع ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کرکے صدہ میں قائم ایک کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

یاد رہے خیبر ایجنسی میں بھی فوجی آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اور حکام کے مطابق گزشتہ چند روز سے کوئی ڈیڑھ ہزار سے زیادہ خاندان نقل مکانی کرکے نوشہرہ کے قریب قائم جلوزئی کیمپ پہنچے ہیں ۔

اسی بارے میں