ضمنی انتخابات کی تاریخ میں رد و بدل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قومی اسمبلی کی تمام نشتیں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے اراکین اسمبلی کے مستعفیٰ ہونے کی وجہ خالی ہوئی ہیں

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی چھ اور صوبائی اسمبلیوں کی چار نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کی تاریخ میں رد و بدل کی ہے اور ان نشستوں پر پولنگ اب پچیس فروری کو ہوگی۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن کمیشن نے بیس فروری کی تاریخ مقرر کی تھی جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی چار نشستوں پر پولنگ بلترتیب چھ اور پندرہ فروری کو ہونا تھی۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں سپریم کورٹ کے اُنیس جنوری کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ غیر مستند ووٹر لسٹوں پر انتخابات نہیں ہو سکتے۔

قومی اسمبلی کی جن خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے ان میں این اے 91، مردان ،این اے 104 قصور ،این اے 148 اور 149 ملتان،این اے 158، وہاڑی اور این اے 195رحیم یار خان شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے دو حلقوں پی پی 18 اٹک اور پی پی 44 میانوالی جبکہ سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پی ایس 57 بدین اورپی ایس 53 ٹنڈو محمد خان شامل ہیں۔

یہ نتستیں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اکبر خان ہوتی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پاکستان مسلم لیگ نون کے جاوید ہاشمی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار آصف احمد علی اور مسلم لیگ فنگشنل کے جہانگیر ترین کے مستعفیٰ ہونے کی وجہ سے خالی ہوئیں تھیں ۔

ان تمام افراد نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ جبکہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عظیم دولتانہ کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت کے بعد وہاڑی کی سیٹ خالی ہوئی تھی۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی چھ سے سات فروری تک متعلقہ ریٹرنگ افسرز کے پاس جمع کروائے جاسکیں گے جبکہ ان کاغذات کی جانچ پڑتال آٹھ سے نو فروری کو ہوگی۔

کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں کا فیصلہ گیارہ فروری کو کیا جائے گا جبکہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ چودہ فروری ہے اور پندرہ فروری کو اُمیدواروں کی حتمی فہرست شائع کردی جائے گی۔

الیشکن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں جن اُمیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں اُنہیں دوبارہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے موجودہ انتخابی فہرستوں کے نتیجے میں کامیاب ہونے والے 23 ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے کہا ہے کہ وہ چھ فروی تک پارلیمنٹ سے ان انتخابی فہرستوں پر ہونے والے انتخابات کی توثیق کروالیں ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات اٹھارہویں آئینی ترمیم کا آئین کا حصہ بننے کے بعد نامکمل الیکشن کمیشن کی موجودگی میں ہوئے۔

حکمراں جماعت نے پہلے سے ہونے والے ضمنی انتِخابات کو آئینی تحفظ دینے کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا ہے۔ تاہم قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ اُن کی جماعت اُس وقت تک اس بل کی حمایت نہیں کرے گی جب تک الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہیں کی جاتی۔ پچھلے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی بڑی جماعت پاکستان ملسم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کامیاب ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ نے بوگس انتخابی سے متعلق دائر درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو تیئیس فروری تک مستند انتخابی فہرستوں کی تیاری کا حکم دیا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈ لائن تک یہ فہرستیں مکمل نہیں ہوسکتیں۔