منصور اعجاز کی دس فروری کو طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے امریکی شہری منصور اعجاز کو دس فروری کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متنازع میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز کو ابتدائی طور پر چھبیس جنوری کو طلب کیا گیا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔

متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی کی صدارت میں جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا۔

اجلاس کے بعد سنیٹر رضا ربانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے کمیٹی کو پاکستان میں قیام کے دوران منصور اعجاز کے لیے سکیورٹی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ کمیٹی نے اٹارنی جنرل کے بیان پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کے بادی النظر میں منصور اعجاز کی سیکورٹی کے لیے مناسب انتظامات کیے گیے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ اگر منصور اعجاز کو اپنی سکیورٹی کے بارے میں کوئی خدشات ہیں تو ملک کے قوانین کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان خدشات کو دور کیا جائے۔

رضا ربانی نے کہا کہ کمیٹی نے منصور اعجاز کے لیے نیا نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انھیں دس فروری کو طلب کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی منصور اعجاز کو وزرات خارجہ کے ذریعے نوٹس بھیجا جائے گا۔ منصور اعجاز کے وکیل یہ بیان دے چکے ہیں کہ پارلیمان کی کمیٹی ان کے موکل کو طلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے متنازعہ میمو کی تحقیقات پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو سوپنی جس نے اکیس دسمبر سے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے۔

اسی دوران سپریم کورٹ نے حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف سمیت نو افراد کی طرف سے دائر درخواستوں پر متنازعہ میمو کی تحقیقات کے لیے تین رکنی عدالتی کیمشن قائم کیا جس پر ملک میں رائے تقسیم ہوگئی کہ پارلیمان کی کمیٹی کے ہوتے ہوئے عدالتی کمیشن کی ضرورت تھی یا نہیں۔

دریں اثنا عدالتی کمیشن نے پہلے ہی منصور اعجاز کو نو فروری کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے آخری موقع دیا ہے۔

منصور اعجاز نے منگل کو کمیشن کے سامنے پیش ہونا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے تھے اور ان کے وکیل اکرم شیخ نے کمیشن کو بتایا تھا کہ ان کے موکل کو سیکورٹی کے انتظامات پر عدم اطمینان ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان نہیں آئے۔

اسی بارے میں