بلوچستان میں پولیو مہم تیس جنوری سے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیو سے بلوچستان کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کوئٹہ ،پشین اور قلعہ عبداللہ ہیں

پاکستان سے پولیو کی بیماری کے خاتمے کے لیے بلوچستان کے ستائیس اضلاع میں تیس جنوری سے شروع ہونے والی تین روزہ مہم کے دوران بائیس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔ پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے ایک سو اٹھانوے مریض سامنے آئے جن میں سے تہتر کا تعلق بلوچستان سے تھا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے بلوچستان میں پروگرام مینیجر اور پولیو ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبدالوہاب اسلم ، پولیو کے لیے وزیراعلٰی بلوچستان کے مشیر ڈاکٹر مسعود خان جوگیزئی، پولیو کے میڈیا فوکل پرسن کامران اسد اورڈپٹی مینیجر صحت ڈاکٹر اسحاق پانیزئی نے سنیچرکو کوئٹہ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلو چستان میں پولیو کیسز میں اضافے کی روک تھام کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ مذہبی و سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بالخصوص میڈیا کو بھی موثر اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ڈاکٹر عبدالوہاب اسلم نے بتایا کہ کہا کہ دو ہزار بارہ کی پہلی قومی انسداد پولیو مہم صوبے کے تیس میں سے ستائیس اضلا ع میں تیس جنوری سے شروع کی جا رہی ہے جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر بائیس لاکھ سے زائد بچوں کو مجموعی طور پر سات ہزار سے زائد ٹیمیں گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلائیں گی۔

پولیو سے بلوچستان کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کوئٹہ ،پشین اور قلعہ عبداللہ میں یہ مہم چھ فروری کو زیادہ بہتر انداز میں شروع کی جائے گی۔ اسی لیے 30 جنوری سے شروع ہونے والی مہم میں کوئٹہ ،پشین اور قلعہ عبداللہ کو شامل نہیں کیا گیا۔

ڈپٹی مینیجر صحت پولیو پروگرام ڈاکٹر اسحاق پانیزئی نے کہا کہ گزشتہ سال ملک بھرسے پولیو کے ایک سو اٹھانوے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں بلوچستان سے تہتر کیس بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں پولیو ٹیموں کے لیے سکیورٹی کے مسائل ہیں جس کی وجہ سے پولیوکی مہم درست انداز میں نہیں چلائی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیو کے حوالے سے احتسابی عمل کو بھی تیز کیا جائے اور عوام بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے پولیو کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق حکومت سمیت زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام طبقوں کو پولیو کو ختم کرنے میں انتہائی سنجیدہ کردار اداکرنا ہوگا۔

پولیو کے لیے وزیراعلی بلوچستان کے صلاح کار ڈاکٹر مسعود خان جوگیزئی نے کہا کہ ماضی میں پولیو ٹیموں میں اٹھارہ سال تک کی عمر کے افراد کا انتخاب ہوتاتھا جس کو سختی سے بند کر دیا گیا ہے اور کوشش ہے کہ آئندہ سنجیدہ اور پڑھے لکھے افراد خصوصا خواتین کو اس میں شامل کیا جائے اس لئے کوئٹہ ، قلعہ عبداللہ اور پشین میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ٹیموں میں شامل کیا گیا ہے۔

اس موقع پر ڈائریکٹرجنرل محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کامران اسد نے کہاکہ پولیو کی تشویش ناک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے وفاقی سطح پر توسیع شدہ ایمر جنسی پلان تیار کیا گیا۔ جس کی روشنی میں اب صوبائی ایمر جنسی پلان مرتب کیا گیا ہے جس کی نگرانی وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور چیف سیکرٹری بلوچستان احمدبخش لہڑی خود کر رہے ہیں اور اس پلان کے تحت ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ڈی پی ای سی سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو مہم کے دوران تمام کاموں کی نگرانی کرے گی ۔

اسی بارے میں