ڈاکٹر شکیل آفریدی، ’بااثر متنازع شخصیت‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بتایا جاتا ہے ڈاکٹر شکیل اختر گزشتہ کئی برسوں سے پشاور کے علاقے حیات آباد کے اس مکان میں مقیم تھے۔

القاعدہ کے رہنماء اُسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی زندگی ہمشہ متنازعہ رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ملازمت کے دوران کئی مرتبہ بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت معطل کیاگیاتھا تاہم اثر و رسوخ کے باعث انہیں اپنے عہدے پر بحال کیا جاتا رہا۔

ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مُہم چلانے کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی باڑہ کے ایک نجی ہسپتال میں غیر ضروری آپریشن کرنے کے الزام میں معطل تھے اور اس دوران وہ فاٹا سیکٹریٹ میں بحیثیت ایک او ایس ڈی کام کررہے تھے۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق دو ہزار گیارہ میں سولہ مارچ سے اٹھارہ مارچ تک تین روزہ پولیو مُہم چلانے کے لیے وہ ایبٹ گئے تھے۔ پولیو ویکسی نیشن کے لیے استعمال ہونے والے چھ خالی بکسے وہ مجاز حکام کی اجازت کے بغیر جمرود ہسپتال سے لے گئے تھے جہاں ڈبلیو ایچ او کے خالی بکسے پڑے تھے۔

اہلکاروں نے بتایا کہ خالی بکسوں کو لے جانے پر جمرود ہسپتال کے ایجنسی سرجن ڈاکٹر طاہر نے ڈاکٹر شکیل کے خلاف فاٹا سیکٹریٹ میں رپورٹ بھی کی لیکن چند دنوں کے بعد اعلیٰ حکام نے ڈاکٹر طاہر کو تبدیل کرکے ڈاکٹر شکیل کو ایجنسی سرجن مقرر کر دیا۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شکیل جب خیبر ایجنسی کے ایجنسی سرجن بنے تو خالی بکسوں کو لے جانے والی کہانی پس منظر میں چلی گئی اور اس کے بعد یکم، دو، تین اپریل کی پولیو مُہم بھی انہوں نے ایبٹ آباد میں چلائی اور اس طرح اکیس، بائیس اور تیس اپریل کی مُہم بھی انہوں نے ایبٹ آباد میں چلائی تھی جس میں وہ اُسامہ کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ بائیس مئی دو ہزار گیارہ کو پاکستان کے خُفیہ اداروں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ڈیوٹی سے گھر جاتے ہوئے حیات آباد کے قریب کارخانوں مارکیٹ سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

اس واقعے کے بعد سے ان کے اہلِ خانہ بھی روپوش ہیں جن میں ان کی پاکستانی نژاد امریکی بیوی بھی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل کی امریکی بیوی کے بھائی پاکستان میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور ان کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں